مسلسل اپ ڈیٹس

ایچ آر سی پی کی مذہبی آزادی و اقلیتوں کے حقوق کی رپورٹ 2025/26

لاہور: ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے ’سینکچری ڈینائیڈ: فریڈم آف ریلیجن اور بلیف اِن 2025/26‘ عنوان سے سالانہ رپورٹ جاری کی جس میں کہا گیا ہے کہ قانونی اقدامات کے باوجود مذہبی اقلیتیں بنیادی حقوق سے متعلق سنگین مسائل کا سامنا کر رہی ہیں۔ رپورٹ میں توہین مذہب قوانین کے مبینہ غلط استعمال، جبری شادیاں اور تبدیلی مذہب، نفرت انگیز تقاریر، امتیازی روزگار پالیسی اور نصاب سے متعلق خدشات شامل ہیں۔ ایچ آر سی پی نے احمدی برادری پر حملوں، مسیحی اور ہندو لڑکیوں کے مبینہ اغوا و جبری شادیوں، توہین مذہب کے ملزمان کی قانونی غیر یقینی کیفیت اور مبینہ منظم ’پھنساؤ‘ نیٹ ورک کی تحقیقات نہ ہونے پر سوال اٹھایا۔ رپورٹ نے نیشنل کمیشن فار منارٹیز ایکٹ 2025 اور پنجاب و بلوچستان میں شادی کی کم از کم عمر بڑھانے کو خوش آئند قرار دیا مگر نوٹ کیا کہ قومی کمیشن ابھی تشکیل پایا نہیں؛ وفاقی حکومت سے کمیٹی سازی، قواعد اور چیئرمین و ارکان کی تعیناتی کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ ایچ آر سی پی صوبوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اعدادوشمار شائع کرنے، پولیس و تفتیشی عملے کی تربیت بہتر کرنے، عبادت گاہوں کا تحفظ یقینی بنانے اور 2014 کے سپریم کورٹ فیصلے پر عمل درآمد سمیت قانونی کارروائیوں کی سفارشات دیتی ہے۔ ہر فردی واقعے کی قانونی ذمہ داری کا تعین متعلقہ تحقیقات اور عدالتی عمل سے ہوگا؛ حکومت یا متعلقہ اداروں کے جواب آنے پر ان کے موقف کو شامل کیا جائے گا۔

1 خبریںاہم موضوعآخری خبر:

خبروں کا تسلسل · تازہ ترین پہلے

ایچ آر سی پی کی مذہبی آزادی و اقلیتوں کے حقوق کی رپورٹ 2025/26 | اردو ہیڈ لائنز