لاہور: ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے اپنی ساتویں سالانہ رپورٹ برائے آزادی مذہب و عقیدہ میں کہا ہے کہ حالیہ قانونی اقدامات کے باوجود پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کو بنیادی حقوق سے متعلق سنگین مسائل کا سامنا جاری ہے۔ ’سینکچری ڈینائیڈ: فریڈم آف ریلیجن اور بلیف اِن 2025/26‘ کے عنوان سے جاری رپورٹ میں توہین مذہب قوانین کے مبینہ غلط استعمال، جبری شادیوں اور تبدیلی مذہب، نفرت انگیز تقاریر اور امتیازی طریقہ کار کے بارے میں خدشات بیان کیے گئے ہیں۔
ایچ آر سی پی کے مطابق توہین مذہب کے الزامات کا سامنا کرنے والے متعدد افراد قانونی غیر یقینی میں ہیں، جبکہ کمیشن نے ایک مبینہ منظم پھنساؤ نیٹ ورک سے متعلق تحقیقات نہ ہونے پر بھی سوال اٹھایا۔ رپورٹ میں احمدی برادری پر حملوں، مسیحی اور ہندو لڑکیوں کے مبینہ اغوا اور جبری شادیوں، روزگار میں امتیازی رویوں اور نصاب سے متعلق مسائل کا ذکر کیا گیا۔ یہ نکات انسانی حقوق کے ادارے کے مشاہدات اور الزامات ہیں؛ ہر انفرادی واقعے میں قانونی ذمہ داری کا تعین متعلقہ تحقیقاتی اور عدالتی عمل سے ہونا ہے۔
رپورٹ نے نیشنل کمیشن فار منارٹیز ایکٹ 2025 اور پنجاب و بلوچستان میں شادی کی کم از کم عمر 18 سال کرنے کے قوانین کا خیر مقدم کیا، لیکن کہا کہ قومی کمیشن کے قانون کے باوجود کمیشن ابھی تک تشکیل نہیں دیا گیا۔ ایچ آر سی پی نے وفاقی حکومت سے کمیشن کی فوری تشکیل، قواعد وضع کرنے اور چیئرمین و ارکان کی تقرری کا مطالبہ کیا ہے۔
ادارے نے خیبر پختونخوا میں بھی شادی کی کم از کم عمر 18 سال مقرر کرنے، توہین مذہب کے مقدمات اور ہجومی تشدد سمیت متعلقہ اعداد و شمار باقاعدگی سے جاری کرنے، پولیس اور تحقیقاتی اداروں کی تربیت بہتر بنانے اور عبادت گاہوں کے تحفظ کی سفارش کی۔ رپورٹ میں 2014 کے سپریم کورٹ فیصلے پر مکمل عمل درآمد اور نفرت انگیز تشدد کی ترغیب کے خلاف قانونی کارروائی پر بھی زور دیا گیا ہے۔ حکومت یا متعلقہ اداروں کا تفصیلی جواب سامنے آنے کی صورت میں اس موقف کو بھی اسی تناظر میں شامل کیا جانا ضروری ہوگا۔
