لاہور: پنجاب حکومت نے جیلوں میں تعلیم اور اصلاح کے پروگرام سے منسلک ایک نئی رعایت نافذ کرتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ منظور شدہ خواندگی پروگرام کے تحت پڑھنے، لکھنے اور بنیادی حساب کی مہارت کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنے والے سزا یافتہ ناخواندہ قیدی کو 30 دن کی خصوصی سزا معافی دی جا سکے گی۔ اس مقصد کے لیے پاکستان پریزن رولز 1978 میں ترمیم کی گئی ہے۔
پنجاب کے گورنر کی منظوری کے بعد محکمہ داخلہ نے نوٹیفکیشن جاری کیا جبکہ محکمہ قانون و پارلیمانی امور نے متعلقہ گزٹ جاری کیا۔ قواعد میں شامل نئی شق 215-اے کے مطابق اہل قیدی کو جیل سپرنٹنڈنٹ خصوصی معافی دے گا۔ یہ رعایت عام، خصوصی یا کسی دوسری قابل اطلاق معافی کے علاوہ اور اس سے الگ شمار ہوگی۔
صوبائی حکومت مئی 2026 سے پنجاب کی جیلوں میں بالغ خواندگی پروگرام چلا رہی ہے۔ دستیاب سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک 19 ہزار 578 قیدیوں کو اس پروگرام کے تحت تعلیم دی گئی، جبکہ 11 ہزار 317 قیدی خواندگی کا امتحان پاس کر چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق چار ہزار سے زیادہ قیدی اس وقت بھی 43 جیلوں میں قائم 182 خواندگی مراکز میں کلاسیں لے رہے ہیں۔
کلاسوں میں زیر تعلیم افراد میں مرد، خواتین اور کم عمر قیدی شامل ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق 3 ہزار 986 مرد، 187 خواتین اور 105 نوعمر قیدی پروگرام میں شریک ہیں۔ صوبائی محکمہ داخلہ اس اقدام کو قیدیوں کی تعلیم، اصلاح، بحالی اور معاشرے میں دوبارہ شمولیت کی وسیع پالیسی کا حصہ قرار دے رہا ہے۔
ہوم سیکریٹری ڈاکٹر احمد جاوید قاضی کے مطابق پروگرام کا مقصد قیدیوں میں تعلیم کے ساتھ خود اعتمادی، نظم و ضبط اور مثبت سوچ کو فروغ دینا ہے۔ نئی سزا معافی عملی طور پر خواندگی پروگرام میں شرکت کے لیے ایک اضافی ترغیب فراہم کرتی ہے۔ اس کے اثرات کا اندازہ آئندہ اس بات سے ہوگا کہ کتنے اہل قیدی سرٹیفکیٹ حاصل کرتے ہیں اور جیلوں میں تعلیمی سرگرمیوں میں شرکت کس حد تک بڑھتی ہے۔

