اسلام آباد: پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے متعلق صدارتی اعلانات کی توثیق کر دی ہے۔ پاکستانی نیوز رومز کی رپورٹس کے مطابق 15 اکتوبر کو ہونے والے مشترکہ اجلاس میں متعلقہ قراردادیں منظور کی گئیں، جبکہ اپوزیشن نے اس اقدام پر سخت اعتراض کیا اور اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا۔

اجلاس کے دوران حکومت کی جانب سے صوبے کی امن و امان اور انسداد دہشت گردی کی صورتحال کو فیصلے کے جواز کے طور پر پیش کیا گیا۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پی ٹی آئی کے ارکان کے انسداد دہشت گردی سے متعلق مؤقف اور صوبائی حکومت کی پالیسی کے درمیان فرق کا ذکر کیا۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر اور دیگر اپوزیشن ارکان نے اپنی جماعت سے متعلق حکومتی الزامات اور گورنر راج کے نفاذ پر اعتراض اٹھایا۔

پارلیمانی توثیق اس سیاسی اور آئینی عمل کا اہم مرحلہ ہے جو صوبے میں وفاقی سطح کے غیر معمولی انتظامی اقدامات کے بعد شروع ہوا۔ مشترکہ اجلاس میں قراردادوں کو پیش کرنے کے لیے معمول کے نوٹس سے متعلق تقاضے معطل کرنے کی تحریک بھی سامنے آئی۔ حکومتی ارکان نے اقدام کو سکیورٹی حالات سے جوڑا، جبکہ اپوزیشن نے اسے صوبائی مینڈیٹ اور آئینی اصولوں کے خلاف قرار دیا۔ یہ دونوں فریقوں کے سیاسی مؤقف ہیں اور ان کے قانونی اثرات کا حتمی تعین متعلقہ آئینی فورمز اور عدالتوں میں ہونے والی کسی کارروائی سے ہوگا۔

گورنر راج کے نتیجے میں خیبر پختونخوا کی منتخب صوبائی حکومت کا معمول کا انتظامی کردار متاثر ہوا ہے اور صوبائی سیاست میں غیر یقینی بڑھی ہے۔ اسی تناظر میں وفاقی آئینی عدالت نے وزیراعلیٰ کی تقرری کے خلاف ایک درخواست کو موجودہ حالات میں غیر مؤثر قرار دیا اور مشاہدہ کیا کہ مستقبل میں وزیراعلیٰ بحال ہونے کی صورت میں درخواست گزار بحالی کی درخواست دے سکتا ہے۔

آئندہ توجہ صوبے میں سکیورٹی، انتظامی فیصلوں، سیاسی جماعتوں کے ردعمل اور ممکنہ عدالتی چیلنجز پر رہے گی۔ پارلیمانی توثیق کے باوجود سیاسی تنازع ختم نہیں ہوا اور اپوزیشن اتحاد نے گورنر راج اور ایمرجنسی کے خاتمے کا مطالبہ جاری رکھا ہے۔