پشاور: دیر کالونی میں ایک نجی اسکول کی بالائی چھت گرنے سے درجنوں بچوں اور ایک خاتون استاد سمیت کم از کم 33 افراد جاں بحق ہو گئے، جبکہ متعدد طلبہ زخمی ہوئے۔ مختلف سرکاری، اسپتال اور ریسکیو ذرائع کی ابتدائی گنتی میں معمولی فرق سامنے آیا، اس لیے حتمی تعداد متعلقہ حکام کی مکمل تصدیق کے بعد واضح ہوگی۔
حادثہ جمعرات کی صبح تدریسی سرگرمیوں کے دوران پیش آیا۔ ریسکیو اہلکاروں، پولیس اور مقامی افراد نے ملبے تلے دبے بچوں اور عملے کو نکالنے کے لیے کئی گھنٹے کارروائی کی۔ لیڈی ریڈنگ اسپتال سمیت مقامی طبی مراکز میں زخمیوں کو منتقل کیا گیا اور ہنگامی انتظامات کیے گئے۔ حکام کے مطابق متاثرین میں زیادہ تر کم عمر طلبہ شامل تھے۔
پشاور پولیس نے اسکول کے مالک کو حراست میں لے لیا ہے۔ پولیس اور انتظامیہ عمارت کی ساخت، تعمیراتی معیار اور ممکنہ غفلت سمیت مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے۔ مالک کی جانب سے حالیہ بارشوں کو چھت کمزور ہونے کی وجہ قرار دینے کا دعویٰ بھی سامنے آیا، تاہم یہ دعویٰ تحقیقات کے مرحلے میں ہے اور اسے حتمی وجہ قرار نہیں دیا گیا۔ بعض ابتدائی سرکاری معلومات میں عمارت کی کمزور حالت کی نشاندہی کی گئی ہے۔
خیبر پختونخوا کے محکمہ تعلیم نے واقعے کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی کمیٹی قائم کی ہے۔ کمیٹی کو عمارت کی ساختی حالت، تعمیر میں ممکنہ نقائص، اسکول انتظامیہ کی ذمہ داری اور حفاظتی ضوابط پر عمل درآمد کا جائزہ لینے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی سے رابطہ کرکے واقعے کی جامع رپورٹ طلب کی اور ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی ہدایت کی۔ انہوں نے زخمیوں کو بہترین ممکنہ طبی سہولت اور متاثرہ خاندانوں کو مدد فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی۔ صدر آصف علی زرداری اور دیگر حکام نے بھی جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا۔
یہ سانحہ تعلیمی اداروں کی عمارتوں کے حفاظتی معیار، نجی اسکولوں کی نگرانی اور پرانی یا کمزور عمارتوں کی باقاعدہ جانچ کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔ تحقیقاتی رپورٹ سے یہ طے ہونا باقی ہے کہ چھت کے انہدام کی بنیادی وجہ کیا تھی اور آیا کسی فرد یا ادارے کی غفلت اس حادثے میں شامل تھی۔

