اسلام آباد میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے 15 اکتوبر کو خیبرپختونخوا میں نافذ ایمرجنسی اور گورنر راج سے متعلق وفاقی اقدامات کی توثیق کردی۔ اجلاس میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان سخت بحث ہوئی اور اپوزیشن نے اقدام کو مسترد کرتے ہوئے احتجاج کیا۔ ڈان کے مطابق اجلاس ایک روز بعد منعقد ہوا جب قومی اسمبلی اور سینیٹ نے الگ الگ قراردادوں کے ذریعے ایمرجنسی کی حمایت کی تھی۔

کارروائی کے آغاز پر پارلیمانی امور کے وزیر طارق فضل چوہدری نے مشترکہ اجلاس کے قواعد کے تحت بعض ذیلی قواعد معطل کرنے کی تحریک پیش کی تاکہ متعلقہ قراردادیں پیش کی جاسکیں۔ اپوزیشن کے نعروں کے درمیان یہ طریقہ کار کی تحریک ارکان کو کھڑا کرکے ووٹ لینے کے بعد 214 کے مقابلے میں 56 ووٹ سے منظور ہوئی۔ اس کے بعد آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی اور آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج سے متعلق الگ قراردادیں ایوان میں پیش کی گئیں۔

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بحث کا آغاز کرتے ہوئے حکومت کا موقف پیش کیا کہ صوبے میں سلامتی کی صورت حال اور صوبائی انتظامیہ کے طرزعمل کے تناظر میں یہ قدم اٹھایا گیا۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ وفاق نے آخری وقت تک صوبائی حکومت کے ساتھ اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی اور دہشت گردی کے خلاف تعاون پر بات چیت ہوئی۔ یہ حکومتی موقف ہے؛ اپوزیشن نے اس تشریح اور اقدام کی آئینی و سیاسی بنیاد پر اعتراض کیا۔

آئینی طور پر ایمرجنسی اور صوبائی حکومت کے معاملات سنبھالنے سے متعلق اقدامات کے لیے پارلیمانی منظوری کے الگ تقاضے موجود ہیں۔ مشترکہ اجلاس میں اپوزیشن ارکان نے پلے کارڈ اٹھائے اور ایمرجنسی نامنظور کے نعرے لگائے۔ وزیراعظم شہباز شریف بھی اجلاس کے ایک حصے میں شریک ہوئے۔ اس پیش رفت کے بعد خیبرپختونخوا کی سیاسی اور انتظامی صورت حال پر آئینی و عدالتی بحث جاری رہنے کا امکان ہے، تاہم پارلیمانی توثیق اس دن کی مرکزی اور تصدیق شدہ پیش رفت ہے۔