پشاور میں 15 اکتوبر کی صبح ایک اسکول کی عمارت کی چھت گرنے سے کم از کم 34 طلبہ اور ایک استاد جان سے گئے۔ پولیس اور امدادی حکام کے مطابق حادثہ اس وقت پیش آیا جب بچے صبح کی کلاسوں میں موجود تھے۔ جیو نیوز کے مطابق جاں بحق ہونے والے زیادہ تر بچے 13 سال سے کم عمر تھے، جبکہ پشاور پولیس نے بتایا کہ ملبے تلے دبے تمام افراد کو نکالنے کے بعد ریسکیو آپریشن مکمل کرلیا گیا۔
حادثے کے فوراً بعد پولیس، ریسکیو ٹیمیں اور طبی عملہ موقع پر پہنچا۔ صوبائی حکام نے ایمبولینسوں کی بلا رکاوٹ آمدورفت اور زخمیوں کی فوری منتقلی کے لیے انتظامات کیے۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق زخمی بچوں کو پشاور کے اسپتالوں میں منتقل کیا گیا، جہاں ایمرجنسی نافذ کی گئی۔ مختلف مراحل میں ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہا، اسی لیے ابتدائی رپورٹس میں کم اعداد سامنے آئے تھے؛ تازہ دستیاب رپورٹ میں 34 بچوں اور ایک استاد کی موت کی تصدیق کی گئی ہے۔
خیبرپختونخوا کے گورنر نے متعلقہ حکام سے واقعے کی رپورٹ طلب کی ہے۔ اس ہدایت کا مقصد حادثے کے اسباب، عمارت کی حالت اور ممکنہ انتظامی یا حفاظتی خامیوں کے بارے میں حقائق سامنے لانا ہے۔ اس مرحلے پر چھت گرنے کی حتمی وجہ کے بارے میں کوئی سرکاری تحقیقاتی نتیجہ سامنے نہیں آیا، اس لیے کسی مخصوص فرد یا ادارے کی ذمہ داری طے کرنا قبل از وقت ہوگا۔
یہ سانحہ تعلیمی عمارتوں کی ساختی حفاظت، باقاعدہ معائنے اور ہنگامی ردعمل کے انتظامات سے متعلق سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔ حکام کی جانب سے رپورٹ طلب کیے جانے کے بعد مزید تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے، تاہم اس خبر میں صرف ان اموات اور امدادی کارروائیوں کو حتمی طور پر بیان کیا گیا ہے جن کی پولیس، ریسکیو یا اسپتال حکام نے تصدیق کی ہے۔

