پشاور کی دیر کالونی میں قائم نجی تعلیمی ادارے الخیر ایجوکیشن سنٹر کی چھت جمعرات کی صبح تدریسی سرگرمیوں کے دوران گرنے سے کم از کم 34 بچے اور ایک خاتون استاد جاں بحق ہو گئے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق زیادہ تر متاثرہ بچے 13 سال سے کم عمر تھے، جبکہ ریسکیو حکام نے بتایا کہ درجنوں بچوں کو مختلف نوعیت کی چوٹیں آئیں اور بعض کی حالت تشویش ناک رہی۔

ریسکیو حکام کے مطابق حادثہ صبح تقریباً 8 بج کر 48 منٹ پر پیش آیا۔ بالائی منزل کی چھت نیچے موجود کلاس رومز پر آ گری جس کے نتیجے میں عمارت کے دو حصے متاثر ہوئے۔ امدادی کارکن کئی گھنٹے ملبہ ہٹاتے اور بچوں کو نکالتے رہے۔ تنگ گلیوں اور موقع پر والدین و مقامی لوگوں کے ہجوم کے باوجود ریسکیو آپریشن جاری رکھا گیا۔

پشاور پولیس کے سربراہ میاں سعید نے رائٹرز کو بتایا کہ ابتدائی جائزے میں عمارت کا ڈھانچہ کمزور پایا گیا اور کمزور ساخت پر اضافی تعمیر کا بوجھ حادثے کا سبب بننے کے امکانات میں شامل ہے۔ یہ ابتدائی مؤقف ہے اور حتمی ذمہ داری تحقیقاتی عمل مکمل ہونے کے بعد ہی طے ہو گی۔ پولیس نے اسکول کے مالک کو گرفتار کر لیا ہے۔ بعد ازاں درج ایف آئی آر میں مالکان، شیئر ہولڈرز اور تعمیراتی ٹھیکیدار کے خلاف قانونی کارروائی شروع کی گئی اور ناقص تعمیراتی مواد کے استعمال سمیت مختلف الزامات شامل کیے گئے؛ یہ نکات فی الحال الزامات اور تفتیش کا حصہ ہیں، عدالتی طور پر ثابت شدہ نتائج نہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی سے رابطہ کر کے واقعے کی جامع رپورٹ طلب کی اور ذمہ دار پائے جانے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی ہدایت کی۔ سرکاری ریڈیو پاکستان کے مطابق وزیراعظم نے زخمیوں کو بہترین طبی سہولتیں اور متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی۔ صوبائی سطح پر واقعے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی قائم کی گئی ہے اور تعلیمی عمارتوں کی حفاظت کے نظام پر بھی سوالات اٹھے ہیں۔

حادثے کے بعد جاں بحق بچوں اور استاد کی نماز جنازہ ادا کی گئی اور متاثرہ خاندانوں نے جواب دہی کا مطالبہ کیا۔ مختلف ذرائع میں ابتدائی اموات کی تعداد میں فرق سامنے آیا، تاہم رائٹرز نے پولیس اور ریسکیو حکام کے حوالے سے 34 بچوں اور ایک خاتون استاد کی ہلاکت رپورٹ کی۔ تحقیقات سے عمارت کی منظوری، تعمیراتی معیار اور نگرانی سے متعلق مزید حقائق سامنے آنے کی توقع ہے۔