اسلام آباد میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ سے متعلق صدارتی اعلانات کی دو الگ قراردادوں کے ذریعے توثیق کر دی۔ اجلاس میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان شدید اختلاف سامنے آیا اور اپوزیشن نے ایوان کے اندر احتجاج کیا۔ کارروائی کی صدارت قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق نے کی، جبکہ پارلیمانی امور کے وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے متعلقہ صدارتی اعلانات ایوان کے سامنے پیش کیے۔

پہلی قرارداد کے ذریعے آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت جاری ایمرجنسی کے اعلان کی منظوری دی گئی، جبکہ دوسری قرارداد آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج کے صدارتی اعلان سے متعلق تھی۔ مشترکہ اجلاس میں طریقہ کار سے متعلق ایک تحریک بھی ووٹنگ کے ذریعے منظور ہوئی، جس کے حق میں 214 اور مخالفت میں 56 ووٹ پڑے۔ بعد ازاں دونوں بنیادی قراردادیں ایوان کے سامنے پیش کی گئیں۔

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بحث کے دوران حکومتی مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال اور وفاقی و صوبائی سطح پر انسداد دہشت گردی کے معاملات پر غور کے بعد یہ آئینی راستہ اختیار کیا گیا۔ انہوں نے اسے آخری راستہ قرار دیا اور کہا کہ معاملہ وفاقی کابینہ میں زیر بحث آنے کے بعد صدر کو آئینی دفعات کے تحت اقدام کی سفارش کی گئی۔ یہ حکومت کا مؤقف ہے؛ اپوزیشن نے اس جواز کو قبول نہیں کیا اور فیصلے کی سیاسی و آئینی بنیادوں پر مخالفت کی۔

آئینی طریقہ کار کے مطابق آرٹیکل 234 کے تحت جاری اعلان کو مشترکہ اجلاس کے سامنے رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ ایسی منظوری محدود مدت کے لیے ہوتی ہے اور کسی توسیع کے لیے دوبارہ پارلیمانی منظوری درکار ہوتی ہے، جبکہ مجموعی مدت آئینی حد سے تجاوز نہیں کر سکتی۔ اس سے ایک روز قبل قومی اسمبلی اور سینیٹ بھی ایمرجنسی کے معاملے پر الگ الگ قراردادیں منظور کر چکے تھے۔

مرکز نے 11 اکتوبر کو صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیا تھا۔ اس فیصلے کے بعد صوبائی انتظام، سیاسی نمائندگی، انسداد دہشت گردی پالیسی اور وفاق و صوبے کے اختیارات کے بارے میں ایک اہم آئینی و سیاسی بحث جاری ہے۔ مشترکہ اجلاس کی منظوری نے فی الحال صدارتی اقدامات کو پارلیمانی توثیق دے دی ہے، تاہم اپوزیشن کی مخالفت کے باعث معاملہ ملک کی سیاسی کشیدگی کا مرکزی موضوع بنا ہوا ہے۔