مسلسل اپ ڈیٹس

اروناچل پردیش: سیانگ ڈیم منصوبے کے خلاف احتجاج اور سیکورٹی تعیناتیاں

اروناچل پردیش کی سیانگ وادی میں مجوزہ سیانگ اپر ملٹی پرپَز پروجیکٹ (مجوزہ پیداواری صلاحیت 11,200 میگاواٹ) کے خلاف احتجاج اور پولیس کے ساتھ جھڑپوں کے بعد بھارتی حکام نے سینکڑوں اضافی سکیورٹی اہلکار تعینات کیے؛ پولیس نے آنسو گیس استعمال کی، کم از کم 21 افراد گرفتار کیے گئے اور بعض مظاہرین نے پتھراؤ کے علاوہ ایک پولیس اسٹیشن اور سرکاری نیشنل ہائیڈرو الیکٹرک پاور کارپوریشن کے دفتر کو آگ لگا دی۔ مقامی آدی قبائل سے تعلق رکھنے والے مظاہرین کا کہنا ہے کہ ڈیم سے 27 دیہات مکمل طور پر زیرِ آب آ سکتے ہیں اور مزید 40–50 دیہات متاثر ہونے کا خدشہ ہے — یہ اعداد مظاہرین کے دعوے ہیں اور کسی سرکاری ماحولیاتی یا بحالی جائزے کے حتمی نتیجے کے طور پر پیش نہیں کیے گئے۔ واقعہ چین‑بھارت وسیع آبی و تزویراتی پس منظر میں بھی آتا ہے؛ چین نے دسمبر 2024 میں بالائی علاقے میں ایک بڑے پن بجلی ڈیم کے منصوبے کا اعلان کیا تھا، اور دونوں ممالک اروناچل پردیش/جنوبی تبت کے خطے میں مخالف جغرافیائی دعووں کے پس منظر میں آبی وسائل کے اثرات پر حساسیت رکھتے ہیں۔ رپورٹس میں منصوبے کی منسوخی یا حتمی تعمیر کے متعلق کوئی حتمی فیصلہ درج نہیں۔

1 خبریںآخری خبر:

خبروں کا تسلسل · تازہ ترین پہلے

اروناچل پردیش: سیانگ ڈیم منصوبے کے خلاف احتجاج اور سیکورٹی تعیناتیاں | اردو ہیڈ لائنز