گوہاٹی: بھارت نے شمال مشرقی ریاست اروناچل پردیش کی سیانگ وادی میں مجوزہ بڑے پن بجلی منصوبے کے خلاف احتجاج کے بعد سینکڑوں اضافی سکیورٹی اہلکار تعینات کر دیے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق گزشتہ ہفتے نوجوان مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جن کے بعد کم از کم 21 افراد کو گرفتار کیا گیا۔
پولیس کے مطابق جھڑپوں کے دوران اہلکاروں نے آنسو گیس استعمال کی جبکہ بعض مظاہرین نے پتھراؤ کیا اور ایک پولیس اسٹیشن اور سرکاری نیشنل ہائیڈرو الیکٹرک پاور کارپوریشن کے دفتر کو آگ لگا دی۔ اروناچل پردیش کے پولیس سربراہ ایس ڈی سنگھ جم وال نے کہا کہ جن مقامات پر ضرورت ہے وہاں فورس میں اضافہ کیا جا رہا ہے تاکہ امن و امان کی مزید خرابی روکی جا سکے۔
تنازع سیانگ اپر ملٹی پرپز پروجیکٹ سے متعلق ہے، جس کی مجوزہ پیداواری صلاحیت 11,200 میگاواٹ ہے اور اسے سرکاری نیشنل ہائیڈرو الیکٹرک پاور کارپوریشن نے تیار کرنا ہے۔ گزشتہ دو برس کے دوران سیانگ وادی میں اس منصوبے کے خلاف وقفے وقفے سے احتجاج ہوتا رہا ہے۔ مقامی آدی قبائل سے تعلق رکھنے والے دیہاتیوں کو خدشہ ہے کہ منصوبہ ان کے آبائی علاقوں کو زیر آب کر دے گا۔
سیانگ انڈیجینس فارمرز فورم کے ایک نمائندے نے رائٹرز کو بتایا کہ ان کے اندازے کے مطابق ڈیم بننے سے 27 آبائی دیہات مکمل طور پر زیر آب آ سکتے ہیں جبکہ مزید 40 سے 50 دیہات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ یہ اعداد مظاہرین کے دعوے ہیں اور منصوبے کے حتمی سرکاری بحالی یا ماحولیاتی جائزے کے نتائج کے طور پر پیش نہیں کیے جا سکتے۔
سیانگ دریا تبت سے اروناچل پردیش میں داخل ہوتا ہے جہاں اسے یارلنگ زانگبو کہا جاتا ہے۔ چین نے دسمبر 2024 میں بالائی علاقے میں دنیا کے سب سے بڑے پن بجلی ڈیم کی تعمیر کا منصوبہ ظاہر کیا تھا، جس کے بعد نئی دہلی میں پانی کے بہاؤ اور تزویراتی خطرات سے متعلق خدشات بڑھے۔ بھارت کا مجوزہ منصوبہ اسی وسیع علاقائی آبی اور سلامتی تناظر سے بھی جڑا ہے۔ چین اروناچل پردیش کو جنوبی تبت کا حصہ قرار دیتا ہے جبکہ بھارت اسے اپنا اٹوٹ حصہ کہتا ہے۔ موجودہ تصدیق شدہ پیش رفت اضافی فورسز کی تعیناتی اور احتجاج کے بعد گرفتاریوں تک محدود ہے؛ ڈیم کی منسوخی یا حتمی تعمیر کا فیصلہ رپورٹ نہیں ہوا۔

