مسلسل اپ ڈیٹس

اسلام آباد ہائیکورٹ: کریکٹر سرٹیفکیٹ میں حتمی بریت والی ایف آئی آر درج نہ کرنے کا حکم

اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ جس فوجداری مقدمے میں ایک شہری کو مجاز عدالت سے حتمی طور پر بریت مل چکی ہو، اس مقدمے کی ایف آئی آر کو پولیس کی جاری کردہ کریکٹر سرٹیفکیٹ میں منفی اندراج کے طور پر شامل نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے درخواست گزار کے کریکٹر سرٹیفکیٹ میں شالیمار پولیس اسٹیشن کی ایف آئی آر کے حوالہ کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسلام آباد پولیس کے سربراہ (آئی جی) کو ہدایت کی کہ بری ہونے والے افراد کے لیے ایک باقاعدہ طریقہ کار مرتب کیا جائے تاکہ ایسے شہریوں کو ان کے حتمی قانونی اسٹیٹس کے عین مطابق سرٹیفکیٹ مل سکے۔ عدالت نے کہا کہ پولیس اپنے داخلی ریکارڈ میں مقدمات کی معلومات رکھ سکتی ہے مگر عوام کو جاری کیے جانے والے کریکٹر سرٹیفکیٹ میں بریت کے بعد متعلقہ ایف آئی آر کا ذکر مختلف آئینی اور قانونی حقوق بشمول آئین کے آرٹیکلز 4، 9، 14 اور 15 کو متاثر کر سکتا ہے۔ عدالت نے تفتیش کے دوران 'ڈسچارج' کی اصطلاح کو حتمی بریت کے اثر کو کم کرنے کے طور پر قبول نہ کیا اور واضح کیا کہ یہ حکم داخلی ریکارڈ کے حذف کرنے کا حکم نہیں دیتا بلکہ عام طریقِ کار وضع کرنے کی ہدایت ہے تاکہ مستقبل میں حتمی بریت والے شہریوں کو علیحدہ عدالتی مداخلت کے بغیر درست کریکٹر سرٹیفکیٹ مل سکیں۔

2 خبریںاہم موضوعآخری خبر:

خبروں کا تسلسل · تازہ ترین پہلے