اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اگر کسی شہری کو کسی مقدمے میں مجاز عدالت بری کر چکی ہو اور وہ بریت حتمی حیثیت اختیار کر چکی ہو تو اس مقدمے کی ایف آئی آر پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ میں درج نہیں کی جانی چاہیے۔ عدالت نے کہا کہ ایسے شہریوں کو اس حق کے حصول کے لیے الگ الگ آئینی درخواستیں دائر کرنے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے۔
جسٹس اعجاز شوکت نے آٹھ صفحات پر مشتمل حکم ایک خاتون کی درخواست پر جاری کیا۔ درخواست گزار نے برطانیہ کے سفر کے لیے پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ حاصل کیا تھا، مگر اس میں ایک ایسے مقدمے کی ایف آئی آر کا ذکر موجود تھا جس میں وہ تقریباً نو سال قبل بری ہو چکی تھیں۔ انہوں نے اس اندراج کو ہائیکورٹ میں چیلنج کیا۔
عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے اصول واضح کیا کہ محض ایف آئی آر کا اندراج کسی شخص کو مجرم ثابت نہیں کرتا، اور جب مقدمہ باقاعدہ عدالتی کارروائی کے بعد حتمی بریت پر ختم ہو جائے تو پولیس سرٹیفکیٹ کے ذریعے سابق شبہے کو زندہ رکھنا شہری کے قانونی حقوق پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ فیصلے میں سپریم کورٹ کے ان اصولوں کا بھی حوالہ دیا گیا جن کے مطابق صرف مقدمہ درج یا زیر التوا ہونے کی بنیاد پر شہری کے آئینی حقوق محدود نہیں کیے جا سکتے۔
ہائیکورٹ نے استدلال کیا کہ اگر کسی فوجداری مقدمے کی محض رجسٹریشن یا زیر التوا حیثیت خود بخود شہری کو بنیادی حقوق سے محروم کرنے کے لیے کافی نہیں، تو ایسا مقدمہ جس میں حتمی بریت ہو چکی ہو اس کے بارے میں منفی disclosure کی بنیاد مزید کمزور ہو جاتی ہے۔ پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ ملازمت، ویزا، امیگریشن اور بیرون ملک سفر سمیت متعدد مقاصد کے لیے استعمال ہوتا ہے، اس لیے اس میں موجود معلومات شہری کے عملی مواقع پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہیں۔
فیصلے کا دائرہ اس مخصوص اصول سے متعلق ہے کہ حتمی بریت پر ختم ہونے والی ایف آئی آر کو کریکٹر سرٹیفکیٹ میں ظاہر نہ کیا جائے۔ اسے تمام قسم کے پولیس ریکارڈ کے خاتمے یا ہر زیر التوا مقدمے کے بارے میں عمومی حکم سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ عدالت نے خاص طور پر acquittal کے حتمی ہونے کو اہم قرار دیا ہے۔
یہ فیصلہ پولیس حکام کے لیے کریکٹر سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے طریقہ کار میں اہم رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ عملی سطح پر متعلقہ اداروں کو اپنے ڈیٹا اور سرٹیفکیٹ کے فارمیٹ کو اس عدالتی اصول کے مطابق دیکھنا ہوگا تاکہ بری ہو چکے شہریوں کے خلاف پرانے مقدمے کا اندراج غیر ضروری منفی اثر نہ ڈالے۔
عدالت کے حکم کا بنیادی نکتہ presumption of innocence اور حتمی عدالتی نتیجے کے احترام سے جڑا ہے۔ کسی شخص کے خلاف ماضی میں ایف آئی آر درج ہونا اور اس کا عدالت سے مجرم ثابت ہونا دو الگ قانونی حالتیں ہیں؛ حتمی بریت کے بعد پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ میں اسی الزام کو منفی کردار کے اشارے کے طور پر برقرار رکھنا عدالت کے نزدیک قابل قبول نہیں۔
