اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی حکمرانی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ صوبائی حکومت کو دستیاب وسائل اور وفاق سے منتقل ہونے والے فنڈز عوامی فلاح، ترقی اور بنیادی خدمات کے لیے کس حد تک مؤثر انداز میں استعمال کیے گئے۔ انہوں نے یہ گفتگو اسلام آباد میں مسلم لیگ ن کی خیبر پختونخوا پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے دوران کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ خیبر پختونخوا کو گزشتہ برسوں کے دوران وفاقی قابلِ تقسیم محاصل اور دیگر مدات میں وسائل ملتے رہے، تاہم ان کے بقول صوبے میں صحت، تعلیم، بنیادی ڈھانچے اور امن و امان کے شعبوں میں مطلوبہ نتائج نظر نہیں آئے۔ یہ وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کا سیاسی مؤقف ہے؛ پی ٹی آئی ماضی میں وفاقی حکومت پر صوبے کے مالی حقوق، بقایاجات اور سکیورٹی ضروریات پوری نہ کرنے کے الزامات عائد کرتی رہی ہے۔

شہباز شریف نے اجلاس کے شرکا سے کہا کہ صوبے میں سیاسی اور تنظیمی سرگرمیوں کو مضبوط کیا جائے اور عوام کے سامنے وفاقی حکومت کے ترقیاتی اقدامات اور پالیسی ترجیحات رکھی جائیں۔ انہوں نے خیبر پختونخوا کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے دہشت گردی اور سکیورٹی چیلنجز کو بھی اہم مسئلہ قرار دیا اور کہا کہ صوبے کے عوام کو امن اور بہتر حکمرانی کی ضرورت ہے۔

اجلاس میں مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے خیبر پختونخوا کے ارکانِ پارلیمان اور پارٹی رہنماؤں نے صوبے کی سیاسی صورتحال، تنظیمی امور اور عوامی مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیراعظم کی گفتگو ایسے وقت سامنے آئی ہے جب خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت اور وفاقی حکومت کے درمیان مالی معاملات، امن و امان، ترقیاتی منصوبوں اور سیاسی اختیارات پر اختلافات بار بار سامنے آتے رہے ہیں۔

وزیراعظم نے اپنی تنقید میں کسی عدالتی یا احتسابی نتیجے کا حوالہ نہیں دیا بلکہ صوبائی حکمرانی اور وسائل کے استعمال سے متعلق سیاسی سوالات اٹھائے۔ اس لیے ان کے بیانات کو حکومتی یا جماعتی مؤقف کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، نہ کہ کسی مالی بے ضابطگی کے ثابت شدہ نتیجے کے طور پر۔ دستیاب رپورٹ میں پی ٹی آئی کی جانب سے وزیراعظم کے ان مخصوص تازہ ریمارکس پر فوری تفصیلی جواب شامل نہیں تھا۔

خیبر پختونخوا پاکستان میں دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے صوبوں میں شامل رہا ہے اور صوبائی و وفاقی حکومتیں سکیورٹی اخراجات اور انسدادِ دہشت گردی کی ذمہ داریوں کے حوالے سے مختلف مؤقف پیش کرتی رہی ہیں۔ وزیراعظم کا تازہ بیان اسی وسیع سیاسی تناظر میں آیا ہے، جبکہ آئندہ مرحلے میں یہ دیکھا جائے گا کہ وفاق اور صوبے کے درمیان مالی و انتظامی معاملات پر کوئی عملی پیش رفت ہوتی ہے یا سیاسی کشیدگی برقرار رہتی ہے۔