اسلام آباد: پاکستان کی وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے حالیہ بیانات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ کابل کی جانب سے دوطرفہ کشیدگی کی ذمہ داری اسلام آباد کی پالیسیوں پر ڈالنا اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے کے مترادف ہے۔ وزارت کے مطابق پاکستان کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ افغان سرزمین سے پیدا ہونے والے دہشت گردی کے خطرات کا مؤثر تدارک کیے بغیر دونوں ملکوں کے تعلقات معمول پر نہیں آ سکتے۔
ذبیح اللہ مجاہد نے ایک ریڈیو انٹرویو میں دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان اختلافات کے پرامن حل کے لیے مطلوبہ آمادگی نہیں دکھا رہا اور موجودہ تنازع کی وجہ اسلام آباد کی پالیسیاں ہیں۔ پاکستانی وزارت اطلاعات نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ افغان طالبان کی قیادت سرحد پار دہشت گردی کے مسئلے کو حل کرنے میں ناکام رہی ہے اور یہی صورت حال تعلقات میں مسلسل خرابی کی بڑی وجہ بنی ہوئی ہے۔
وزارت نے واضح کیا کہ دہشت گردی پاکستان کے لیے ایک سرخ لکیر ہے اور شہریوں کی سلامتی پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ بیان میں کہا گیا کہ پاکستان اپنی سرحد کے پار ایسے محفوظ ٹھکانوں کو برداشت نہیں کرے گا جو اس کی قومی سلامتی اور شہریوں کے لیے خطرہ بنیں۔ اسلام آباد ماضی میں بھی کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے منسلک عناصر کے خلاف کارروائی کے لیے کابل پر زور دیتا رہا ہے، جبکہ افغان طالبان ان الزامات کے مختلف پہلوؤں سے اختلاف کرتے آئے ہیں۔
پاکستانی بیان کے مطابق الزام تراشی، یقین دہانیوں یا پاکستانی پالیسیوں پر سوال اٹھانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ وزارت نے کہا کہ خطرات سے نمٹنے کی بنیادی ذمہ داری افغان طالبان کی انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے اور پاکستان اپنی قومی سلامتی کے دفاع کے لیے بین الاقوامی قانون کے مطابق تمام ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
دونوں ملکوں کے درمیان گزشتہ عرصے میں قطر، ترکی اور بعد میں چین کی شمولیت سے رابطوں اور مذاکرات کی کوششیں ہوئیں، تاہم دہشت گردی اور سرحدی سلامتی سے متعلق بنیادی اختلافات پر کوئی پائیدار پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔ حالیہ مہینوں میں سرحدی علاقوں میں فائرنگ، ڈرون واقعات اور جوابی کارروائیوں نے کشیدگی میں مزید اضافہ کیا ہے۔ تازہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام آباد اور کابل کے درمیان اعتماد کا بحران بدستور برقرار ہے اور مستقبل کی سفارتی پیش رفت کا انحصار بڑی حد تک سلامتی کے معاملے پر قابل عمل اقدامات پر ہوگا۔
