پشاور: خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے مانسہرہ کے اسسٹنٹ کمشنر عادل وسیم زخمی ہو گئے۔ پولیس حکام کے مطابق حملہ پناہ کوٹ کے علاقے میں اس وقت ہوا جب وہ اپنے آبائی گاؤں صالح خانہ سے واپس جا رہے تھے اور حملہ آوروں نے ان کی سرکاری گاڑی کو نشانہ بنایا۔

واقعے کے بعد زخمی افسر کو طبی امداد کے لیے پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال منتقل کیا گیا۔ ہسپتال کے ترجمان محمد عاصم کے مطابق عادل وسیم کی حالت مستحکم تھی اور انہیں علاج فراہم کیا جا رہا تھا۔ دستیاب معلومات میں ان کے زخموں کی نوعیت یا ہسپتال سے رخصتی کے وقت کے بارے میں مزید تفصیل نہیں دی گئی۔

نوشہرہ کی ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سونیا شمروز کے مطابق واقعے کے فوراً بعد علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کیا گیا۔ پولیس نے حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیم بھی تشکیل دی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

ابتدائی سرکاری معلومات میں حملہ آوروں کی شناخت، تعداد یا ممکنہ مقصد کی تصدیق نہیں کی گئی۔ اسی طرح کسی تنظیم کی ذمہ داری قبول کرنے کی قابل اعتماد اطلاع بھی سامنے نہیں آئی۔ اس لیے واقعے کو فی الحال نامعلوم مسلح افراد کی جانب سے سرکاری گاڑی پر حملے کے طور پر رپورٹ کیا جا رہا ہے اور اس کے محرکات کے بارے میں نتیجہ اخذ کرنا تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے مناسب نہیں ہوگا۔

خیبر پختونخوا گزشتہ عرصے میں مختلف نوعیت کے سکیورٹی واقعات کا سامنا کرتا رہا ہے، جن میں پولیس، سرکاری اہلکاروں اور دیگر اہداف پر حملے شامل ہیں۔ تاہم ہر واقعے کے ذمہ دار عناصر اور محرکات الگ تفتیش کا تقاضا کرتے ہیں۔ نوشہرہ کے اس واقعے میں پولیس کی توجہ حملہ آوروں کی شناخت، جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرنے اور حملے کے پس منظر کا تعین کرنے پر مرکوز ہے۔

سرکاری افسر کی گاڑی کو نشانہ بنائے جانے کے باعث معاملے میں انتظامی اور سکیورٹی دونوں پہلو اہم ہیں۔ پولیس کی جانب سے علاقے کی ناکہ بندی اور سرچ آپریشن اس کوشش کا حصہ ہے کہ حملہ آور فرار نہ ہو سکیں یا ان کے ممکنہ راستوں اور معاونت کے بارے میں معلومات حاصل کی جا سکیں۔

واقعے کی حتمی نوعیت، ذمہ داری اور مقصد کے بارے میں واضح تصویر تفتیشی نتائج کے بعد سامنے آئے گی۔ فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت یہ ہے کہ عادل وسیم حملے میں زخمی ہوئے، انہیں ہسپتال منتقل کیا گیا، ان کی حالت مستحکم بتائی گئی اور نوشہرہ پولیس نے مقدمہ درج کرکے حملہ آوروں کی تلاش شروع کر دی ہے۔