کراچی: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کراچی کی شہری منصوبہ بندی اور تیز رفتار مگر غیر منظم توسیع پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہر کو بہتر بنانے کے لیے ماسٹر پلان بنانے کے ساتھ اس پر مؤثر عمل درآمد اور تمام متعلقہ اداروں کے درمیان ہم آہنگی ناگزیر ہے۔ انہوں نے سندھ ماسٹر پلان اتھارٹی کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کراچی کی موجودہ حالت کو منصوبہ سازوں اور انتظامی عمل درآمد دونوں کے لیے بڑا چیلنج قرار دیا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ کسی نئے شہر کے لیے ابتدا سے ماسٹر پلان بنانا نسبتاً آسان ہو سکتا ہے، لیکن کراچی جیسے وسیع اور پیچیدہ شہر میں پہلے سے موجود تعمیرات، تجاوزات، تجارتی سرگرمیوں، سڑکوں، نکاسی آب اور یوٹیلیٹی نیٹ ورک کو سامنے رکھتے ہوئے اصلاح کرنا زیادہ مشکل کام ہے۔ ان کے مطابق شہر کے مسائل صرف منصوبہ تیار کرنے سے حل نہیں ہوں گے بلکہ مختلف سرکاری اداروں، مقامی حکومتوں، یوٹیلیٹی سروس فراہم کرنے والوں اور شہری حلقوں کو ایک مشترکہ حکمت عملی پر عمل کرنا ہوگا۔

مراد علی شاہ نے بتایا کہ سندھ کے متعدد شہروں کے ماسٹر پلان مکمل یا تکمیل کے مراحل میں ہیں، جبکہ کراچی اور حیدرآباد کے منصوبوں پر کام جاری ہے۔ انہوں نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ کراچی میں زیر زمین اور دیگر یوٹیلیٹی انفراسٹرکچر کی جامع میپنگ دستیاب نہیں، جس کی وجہ سے سڑکوں اور ترقیاتی منصوبوں کے دوران پانی، سیوریج اور دوسری خدمات سے متعلق رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں۔

وزیراعلیٰ نے ماضی کی شدید بارشوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بعض علاقوں میں سڑکوں کے اطراف اور برساتی نالوں پر تجارتی سرگرمیوں اور تجاوزات نے نکاسی آب اور شہری نظم کو متاثر کیا۔ انہوں نے کہا کہ منصوبہ بندی کے باوجود اگر زمین کے استعمال، نکاسی کے راستوں اور سڑکوں سے متعلق قواعد پر عمل نہ ہو تو بنیادی ڈھانچے میں کی گئی سرمایہ کاری مطلوبہ نتائج نہیں دے سکتی۔

ان کے مطابق کراچی کی آبادی تقریباً ڈھائی کروڑ ہے اور بڑے ترقیاتی کام شہریوں کی روزمرہ نقل و حرکت کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 143 سڑکوں پر دوبارہ کام کے لیے مالی وسائل کا انتظام کیا گیا ہے، تاہم خریداری کے طریقہ کار سے متعلق مسائل کے باعث کام شروع نہیں ہو سکا۔ یہ بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ منصوبوں کی مالی منظوری کے بعد بھی procurement اور ادارہ جاتی رابطہ عملی پیش رفت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

مراد علی شاہ نے سندھ ماسٹر پلان اتھارٹی کے تحت مشاورتی فورمز، سیمینارز اور منصوبہ بندی کے مباحث کو جاری رکھنے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی کی بہتری کسی ایک ادارے کے ذریعے ممکن نہیں اور شہر کے تمام stakeholders کو حل میں حصہ لینا ہوگا۔

حکومت سندھ کے سامنے اب بنیادی سوال یہ ہے کہ زیر تیاری ماسٹر پلان کو قابل عمل قواعد، زمین کے استعمال کی نگرانی، یوٹیلیٹی میپنگ، نکاسی آب، سڑکوں اور مقامی اداروں کی ذمہ داریوں کے واضح نظام سے کیسے جوڑا جائے۔ تقریب میں کیے گئے اعلانات کسی نئے تعمیراتی منصوبے کی فوری منظوری نہیں بلکہ کراچی کی طویل مدتی شہری منصوبہ بندی اور موجودہ انتظامی رکاوٹوں کے بارے میں صوبائی حکومت کی پالیسی سمت کی عکاسی کرتے ہیں۔