مسلسل اپ ڈیٹس

گل پلازہ آتشزدگی کیس: تفتیش اور عدالتی کارروائیاں

کراچی کی عدالت نے جنوری میں گل پلازہ میں لگی مہلک آگ (جس میں کم از کم 73 افراد ہلاک اور ایک ہزار سے زائد دکانیں تباہ ہوئیں) کے سلسلے میں دکانداروں کی درخواست مبنی بر قتل اور دہشت گردی کی دفعات شامل کرنے کی استدعا مسترد کر دی اور پولیس کی جانب سے پیش کردہ حتمی چالان قبول کر لیا۔ چالان میں گل پلازہ مینجمنٹ کمیٹی کے چار ارکان تنویر پاستا، امر اسماعیل، محمد رمضان اور محمد امین کے علاوہ دکاندار نعمت اللہ اور ان کے کم عمر بیٹے حذیفہ کو نامزد کیا گیا ہے؛ چالان میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 322 سمیت غفلت، آگ یا دھماکہ خیز مادے سے املاک کو نقصان پہنچانے اور آتش گیر مواد سے متعلق غفلت کی دفعات شامل کی گئیں اور استغاثہ نے 87 گواہوں کی فہرست بھی پیش کی۔ تفتیشی افسر نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، فائر بریگیڈ، ریسکیو 1122، سول ڈیفنس اور ضلعی انتظامیہ کو اس چالان میں غفلت کی ذمہ داری سے بری قرار دیا؛ عدالت کی منظوری حتمی سزا یا بریت نہیں بلکہ مقدمے کی آئندہ عدالتی کارروائی کا آئینہ دار ہے۔

1 خبریںاہم موضوعآخری خبر:

خبروں کا تسلسل · تازہ ترین پہلے