کراچی: جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی نے گل پلازہ آتشزدگی کیس میں قتل اور دہشت گردی کی دفعات شامل کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے پولیس کا حتمی چالان قبول کر لیا ہے۔ جنوری میں ہونے والی اس مہلک آگ میں کم از کم 73 افراد جان سے گئے تھے اور ایک ہزار سے زائد دکانیں تباہ ہوئی تھیں۔ عدالت نے پانچ دکانداروں کی جانب سے مقدمے میں مزید سنگین دفعات شامل کرنے کی استدعا منظور نہیں کی۔

جوڈیشل مجسٹریٹ عاصم اسلم نے دوسرے تفتیشی افسر کی جانب سے پیش کردہ حتمی چالان قبول کیا۔ تفتیش میں گل پلازہ مینجمنٹ کمیٹی کے چار ارکان تنویر پاستا، امر اسماعیل، محمد رمضان اور محمد امین کے علاوہ مصنوعی پھولوں کی دکان کے مالک نعمت اللہ اور ان کے 11 سال سے زائد عمر کے بیٹے حذیفہ کو ملزم قرار دیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق تفتیش میں نامزد افراد کے خلاف مجرمانہ غفلت اور لاپرواہی کے شواہد سامنے آئے۔ چالان میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 322 سمیت لاپرواہی سے نقصان، آگ یا دھماکہ خیز مادے کے ذریعے املاک کو نقصان پہنچانے اور آتش گیر مواد سے متعلق غفلت کی مختلف دفعات شامل کی گئی ہیں۔ استغاثہ نے 87 گواہوں کی فہرست بھی پیش کی ہے۔

تفتیشی افسر نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، فائر بریگیڈ، ریسکیو 1122، سول ڈیفنس اور ضلعی انتظامیہ کو اس چالان میں غفلت کی ذمہ داری سے بری قرار دیا۔ یہ تفتیشی نتیجہ ہے اور مقدمے میں حتمی فوجداری ذمہ داری کا تعین عدالت شواہد، گواہی اور دفاع سننے کے بعد کرے گی۔ چالان کی منظوری کسی ملزم کی حتمی سزا یا بریت نہیں ہے۔

گل پلازہ میں آگ 17 جنوری کی رات لگی تھی اور اسے مکمل طور پر بجھانے میں تقریباً دو دن لگے۔ بڑے پیمانے پر جانی نقصان اور تجارتی املاک کی تباہی کے بعد پولیس تفتیش اور سرکاری اداروں کی ممکنہ ذمہ داری پر سوالات اٹھے تھے۔ جولائی میں پولیس نے پہلے بھی چالان جمع کرایا تھا، تاہم عدالت نے اسے مسترد کرتے ہوئے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس کی سطح کے افسر سے زیادہ جامع اور اطمینان بخش تفتیش کا حکم دیا تھا۔

تازہ عدالتی حکم کے بعد مقدمہ ان دفعات اور ملزمان کے خلاف آگے بڑھے گا جنہیں حتمی چالان میں شامل کیا گیا ہے۔ دکانداروں کی قتل اور دہشت گردی کی دفعات شامل کرنے کی درخواست مسترد ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس مرحلے پر عدالت نے تفتیشی مواد کی بنیاد پر ان اضافی الزامات کو مقدمے کا حصہ نہیں بنایا۔ آئندہ عدالتی کارروائی میں استغاثہ کو نامزد ملزمان کے خلاف غفلت اور دیگر الزامات قانون کے مطلوبہ معیار کے مطابق ثابت کرنا ہوں گے۔