اسلام آباد: وزارت داخلہ نے قومی اسمبلی کو تحریری جواب میں بتایا ہے کہ گزشتہ پانچ برس کے دوران افغان شہریوں کی جانب سے مبینہ فراڈ اور جعلسازی سے حاصل کیے گئے مجموعی طور پر 326,341 کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ منسوخ کیے گئے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے وقفہ سوالات میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ منسوخیاں 2026 میں ریکارڈ ہوئیں۔
وزارت کے مطابق 2026 میں 255,139 شناختی کارڈ منسوخ کیے گئے، جبکہ 2025 میں 62,414، 2024 میں 8,609، 2023 میں 117 اور 2022 میں 62 کارڈ منسوخ کیے گئے۔ وزارت داخلہ کا مؤقف ہے کہ متعلقہ شناختی کارڈ افغان شہریوں نے فراڈ اور جعلسازی کے ذریعے حاصل کیے تھے اور ان معاملات کی نشاندہی ہونے کے بعد کارڈ منسوخ کیے گئے۔ یہ اعداد قومی اسمبلی میں حکومت کی جانب سے فراہم کردہ سرکاری معلومات ہیں۔
شناختی دستاویزات کی منسوخی کا معاملہ پاکستان میں شہریت، سرحدی نقل و حرکت اور شناختی نظام کی جانچ سے براہ راست جڑا ہوا ہے۔ کسی شناختی کارڈ کا منسوخ ہونا انتظامی کارروائی ہے اور انفرادی مقدمات میں متاثرہ شخص کے قانونی حقوق، اپیل یا نظرثانی کے دستیاب طریقہ کار کا تعین متعلقہ قوانین اور ریکارڈ کے مطابق ہوتا ہے۔ وزارت کے مجموعی اعداد ہر انفرادی کیس کی تفصیل فراہم نہیں کرتے۔
اسی قومی اسمبلی کے جواب میں وزارت داخلہ نے قومی ایکشن پلان کے تحت انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کے اعداد بھی پیش کیے۔ حکومت کے مطابق یکم جنوری سے 29 ستمبر 2026 تک ملک بھر میں 5,143 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے۔ وزارت نے ایوان کو بتایا کہ ان کارروائیوں میں 2,410 مشتبہ دہشت گرد مارے گئے، 806 زخمی ہوئے اور 3,518 مشتبہ افراد گرفتار کیے گئے۔ یہ اعداد وزارت داخلہ کے سرکاری جواب سے منسوب ہیں۔
وزارت نے آن لائن انتہاپسند مواد کے خلاف اقدامات میں کمزور عملدرآمد کا بھی اعتراف کیا۔ سرکاری جواب کے مطابق پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی جانب سے مواد ہٹانے کی درخواستوں پر سوشل میڈیا کمپنیوں کی مجموعی تعمیل 23.7 فیصد اور صوبائی کاؤنٹر ٹیررازم محکموں کی درخواستوں پر 47.1 فیصد رہی۔ پلیٹ فارم وار اعداد میں ایکس، یوٹیوب اور فیس بک کے درمیان نمایاں فرق بتایا گیا۔
قومی اسمبلی کو یہ بھی بتایا گیا کہ نیکٹا نے مالی سال 2026-27 کے لیے تقریباً 2.983 ارب روپے مانگے تھے، جبکہ اسے 1.333 ارب روپے مختص ہوئے۔ حکومت نیکٹا کی تنظیم نو اور ادارہ جاتی رابطہ بہتر بنانے پر کام کر رہی ہے۔ شناختی کارڈوں کی منسوخی کے تازہ اعداد اس وسیع تر پالیسی تناظر میں سامنے آئے ہیں جس میں سرحدی انتظام، شناختی ریکارڈ کی جانچ اور قومی سلامتی سے متعلق اداروں کے درمیان رابطے پر توجہ دی جا رہی ہے۔
