مسلسل اپ ڈیٹس

کراچی: یلو لائن بی آر ٹی میں مبینہ مالی بے ضابطگیاں

کراچی کی صوبائی اینٹی کرپشن عدالت نے یلو لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ منصوبے سے متعلق 8.5 ارب روپے کی مبینہ مالی بے ضابطگیوں کا اینٹی کرپشن ادارے کا حتمی چالان قبول کر لیا ہے۔ چالان میں سندھ حکومت کے گریڈ 19 افسر ضمیر عباسی اور کراچی موبلٹی پروجیکٹ کے سابق مختلف عہدیداروں کے خلاف شواہد اور الزامات شامل ہیں؛ عدالت نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر توحہ عزیز سید اور سلیم حسین بھایو کے ناقابلِ ضمانت وارنٹس جاری کیے اور سماعت 23 نومبر تک ملتوی کر دی۔ استغاثہ کا دعویٰ ہے کہ ٹھیکیداروں کو بینک گارنٹی کے بغیر 8.5 ارب روپے کی پیشگی ادائیگیاں کی گئیں اور بعض انتظامی اصول نظرانداز کیے گئے؛ مرکزی ملزم ضمیر عباسی سندھ ہائی کورٹ سے ضمانت حاصل کر چکے ہیں۔ عدالت نے چالان کی منظوری کو جرم کا تعین قرار نہیں دیا اور حتمی فیصلے کے لیے ٹرائل میں شواہد کی جانچ باقی رہنے کی تاکید کی۔

1 خبریںاہم موضوعآخری خبر:

خبروں کا تسلسل · تازہ ترین پہلے

کراچی: یلو لائن بی آر ٹی میں مبینہ مالی بے ضابطگیاں | اردو ہیڈ لائنز