کراچی کی صوبائی اینٹی کرپشن عدالت نے یلو لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ منصوبے سے متعلق 8.5 ارب روپے کی مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کا حتمی چالان قبول کر لیا ہے۔ عدالت نے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ بادی النظر میں الزامات ایسے جرائم کے دائرے میں آتے ہیں جن کا ٹرائل عدالت کے سامنے ہونا چاہیے، تاہم ملزمان کے خلاف الزامات کا حتمی تعین باقاعدہ عدالتی کارروائی میں ہوگا۔

اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے تفتیشی افسر نے سندھ حکومت کے گریڈ 19 افسر ضمیر عباسی اور کراچی موبیلٹی پروجیکٹ کے سابق عہدیداروں کے خلاف چالان پیش کیا۔ اسپیشل جج اینٹی کرپشن محمد امین اللہ صدیقی نے رپورٹ منظور کرتے ہوئے دو سابق پروجیکٹ ڈائریکٹرز توحہ عزیز سید اور سلیم حسین بھایو کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے اور سماعت 23 نومبر تک ملتوی کر دی۔

چالان میں تفتیشی افسر نے الزام عائد کیا ہے کہ ضمیر عباسی نے ایسے قواعد کو نظرانداز کیا جن کے تحت ٹھیکیداروں کو عبوری ادائیگی سرٹیفکیٹ کے بغیر پیشگی رقم جاری نہیں کی جا سکتی تھی۔ تفتیش کے مطابق متعلقہ افسر کے پاس انجینئر کی باقاعدہ تحریری توثیق کے بغیر یکطرفہ طور پر ادائیگی کی منظوری دینے کا اختیار نہیں تھا۔ یہ تمام نکات استغاثہ کے الزامات ہیں اور ابھی عدالت میں ثابت ہونا باقی ہیں۔

تفتیشی رپورٹ میں سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر جھامن داس پر بھی انتظامی طریقۂ کار نظرانداز کرنے اور لازمی تصدیق کے بغیر رقوم جاری کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ دو دیگر سابق ڈائریکٹرز کے بارے میں بھی تفتیشی افسر نے مجرمانہ غفلت، سرکاری اختیار کے مبینہ غلط استعمال اور مالی فراڈ کے الزامات عائد کیے ہیں۔ عدالت کی جانب سے حتمی چالان قبول کرنے کا مطلب جرم ثابت ہونا نہیں بلکہ مقدمے کو ٹرائل کے مرحلے میں آگے بڑھانے کے لیے بادی النظر مواد کا موجود ہونا ہے۔

اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے رواں سال جون میں انکوائری کے بعد مقدمہ درج کیا تھا۔ انکوائری رپورٹ میں الزام تھا کہ یلو لائن منصوبے سے متعلق ٹھیکیداروں کو 8.5 ارب روپے کی پیشگی ادائیگیاں بینک گارنٹی کے بغیر کی گئیں، حالانکہ متعلقہ معاہدوں میں ایسی مالی معاونت کے لیے واضح شق موجود نہیں تھی۔ مرکزی ملزم ضمیر عباسی اس مقدمے میں سندھ ہائی کورٹ سے ضمانت حاصل کر چکے ہیں۔

یلو لائن کراچی کے بڑے پبلک ٹرانسپورٹ منصوبوں میں شامل ہے، اس لیے مقدمے میں مالی انتظام اور سرکاری نگرانی سے متعلق الزامات کی عدالتی جانچ اہم ہوگی۔ آئندہ سماعتوں میں استغاثہ کو اپنے الزامات شواہد سے ثابت کرنا ہوں گے اور ملزمان کو دفاع کا حق حاصل ہوگا۔ فی الحال تصدیق شدہ عدالتی پیش رفت حتمی چالان کی منظوری اور دو سابق عہدیداروں کے ناقابلِ ضمانت وارنٹس کے اجرا تک محدود ہے۔