لاہور میں مارچ 2027 میں ہونے والی تین روزہ بسنت کی تیاریوں کے سلسلے میں انتظامیہ اور پولیس نے حفاظتی اور انتظامی اقدامات کا جائزہ لیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پتنگ بازی صرف سرکاری طور پر مقرر کردہ تین دنوں میں ہی کی جا سکے گی۔ ڈان کے مطابق بسنت فیسٹیول 12 سے 14 مارچ 2027 تک منعقد کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے اور حکام نے غیر قانونی ڈور اور ممنوعہ خام مال کی فروخت کے خلاف فوری اور بلاامتیاز کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔

متعلقہ اجلاس میں موٹر سائیکل سواروں کے تحفظ کے لیے سیفٹی راڈ نصب کرنے کی مہم شروع کرنے، بانس اور دیگر خام مال کی قیمتوں کو منظم رکھنے اور تمام متعلقہ محکموں کے درمیان قریبی رابطہ قائم کرنے پر بھی زور دیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ مقصد ثقافتی سرگرمی کو جاری رکھتے ہوئے شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے واضح قواعد نافذ کرنا ہے۔

اجلاس کی مشترکہ صدارت مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کے معاون وقار احمد، لاہور پولیس کے ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران اور ڈپٹی کمشنر ریٹائرڈ کیپٹن محمد علی اعجاز نے کی۔ انتظامیہ، پولیس اور پتنگ بازی سے متعلق تنظیموں کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔ تنظیموں کے نمائندوں نے خام مال کی قیمتوں اور مسابقتی مارکیٹ سے متعلق تجاویز پیش کیں، جبکہ کم آمدنی والے طبقات کی شرکت آسان بنانے کے لیے بین الاضلاعی تجارت کے امکانات پر بھی بات ہوئی۔

حکام کے مطابق لائسنس یافتہ اجازت نامہ رکھنے والوں کو مقررہ قواعد و ضوابط کی پابندی کے ساتھ سرگرمی کی اجازت ہوگی۔ ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ شہریوں کی حفاظت اولین ترجیح ہے اور مقررہ تاریخوں سے باہر پتنگ بازی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ پولیس حکام نے کہا کہ فیسٹیول سے پہلے، دوران اور بعد میں سکیورٹی انتظامات برقرار رکھے جائیں گے۔

پتنگ بازی سے منسلک دھاتی یا کیمیکل لگی خطرناک ڈور ماضی میں لاہور اور دیگر شہروں میں جان لیوا حادثات کا سبب بنتی رہی ہے، اسی لیے حکام نے ممنوعہ ڈور اور خام مال کے خلاف کارروائی کو تیاریوں کا مرکزی حصہ بنایا ہے۔ موٹر سائیکلوں پر حفاظتی راڈ لگانے کی مہم بھی ڈور سے گردن یا جسم کو لگنے والے خطرے کو کم کرنے کے لیے تجویز کی گئی ہے۔

فی الحال اعلان تیاریوں، پابندیوں اور حفاظتی انتظامات سے متعلق ہے۔ فیسٹیول کے قریب آنے پر ٹریفک پلان، مخصوص علاقوں، اجازت ناموں اور نفاذ کے مزید ضوابط سامنے آ سکتے ہیں۔ انتظامیہ نے یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ بسنت کی سرگرمیاں مقررہ دنوں اور قانونی حدود کے اندر ہی ہوں گی اور ممنوعہ سامان کے خلاف کارروائی فیسٹیول سے پہلے ہی شروع کی جائے گی۔