لاہور میں پنجاب کے محکمہ صحت نے بتایا ہے کہ صوبائی حکومت نے مختلف خصوصی طبی پروگراموں کے تحت مریضوں کے مفت علاج کے لیے 37 ارب روپے سے زیادہ فراہم کیے ہیں۔ صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے ایک جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ ان پروگراموں کا مقصد مہنگے علاج تک رسائی بہتر بنانا اور مختلف بیماریوں میں مریضوں کی انتظار کی فہرستیں کم کرنا ہے۔

بزنس ریکارڈر کی 4 نومبر کی رپورٹ کے مطابق وزیر صحت نے بتایا کہ بالغ مریضوں کی کارڈیک سرجری کے پروگرام کے تحت سالانہ تقریباً 3 ارب روپے مالیت کا مفت علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔ کینسر کے مریضوں کے لیے قائم خصوصی پروگرام میں تشخیص، کیموتھراپی، ریڈیوتھراپی اور سرجیکل و میڈیکل علاج شامل ہیں، جن پر سالانہ تقریباً 10 ارب روپے خرچ ہونے کی بات کی گئی ہے۔

اسی طرح فالج کے مریضوں کے خصوصی انتظامی پروگرام کے تحت تقریباً ایک ارب 25 کروڑ روپے سالانہ مالیت کا مفت علاج فراہم کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔ وزیر صحت کے مطابق بالغوں کے دل کے علاج، کینسر، ڈائلیسس، فالج، بچوں کی ہارٹ سرجری اور ٹرانسپلانٹ کے لیے انتظار کی فہرستیں کم کرنے کی ہدایات بھی دی گئی ہیں۔ یہ مالی اور کارکردگی کے اعداد صوبائی وزیر اور محکمہ صحت کی بریفنگ پر مبنی ہیں۔

خواجہ سلمان رفیق نے اجلاس میں بتایا کہ وزیراعلیٰ چلڈرن ہارٹ سرجری پروگرام کے تحت صوبے میں 16 ہزار 857 سے زائد بچوں کی دل کی سرجری مفت کی جا چکی ہے۔ حکومت اسے اپنے خصوصی صحت پروگراموں کی نمایاں پیش رفت قرار دے رہی ہے، تاہم رپورٹ میں ان تمام اعداد کی کسی علیحدہ آڈٹ رپورٹ کا حوالہ نہیں دیا گیا۔ اس لیے اعداد کو محکمہ صحت کے سرکاری دعووں کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔

اجلاس میں نواز شریف کارڈیالوجی سینٹر مری اور ساہیوال انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے انتظامی امور اور کارکردگی کا بھی جائزہ لیا گیا۔ طبی آلات اور انسانی وسائل کی دستیابی زیر بحث آئی، جبکہ محکمہ صحت نے کہا کہ دونوں مراکز میں سہولتوں کو بہتر بنانے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ مری کے کارڈیالوجی مرکز میں کیتھ لیب فعال ہونے اور جدید مشینری کی خریداری کا بھی ذکر کیا گیا۔

پنجاب حکومت کی یہ پیش رفت صوبائی سطح پر مہنگے علاج کے اخراجات سرکاری پروگراموں کے ذریعے برداشت کرنے کی پالیسی کا حصہ ہے۔ اس کے عملی اثرات کا تعین مریضوں کی حقیقی رسائی، علاج کے معیار، انتظار کے اوقات، ہسپتالوں کی استعداد اور بجٹ کے مسلسل اجرا سے ہوگا۔ فی الحال تصدیق شدہ خبر یہ ہے کہ محکمہ صحت نے 37 ارب روپے سے زائد کی فراہمی اور متعدد پروگراموں کے تحت مفت علاج جاری رکھنے کی تفصیلات پیش کی ہیں۔