اسلام آباد میں انتخابی اصلاحات کے لیے نئی پارلیمانی کمیٹی قائم کرنے کی حکومتی کوشش کو ابتدائی مرحلے میں اختلاف کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف نے مجوزہ کمیٹی میں حکومت اور اپوزیشن کی نمائندگی کے تناسب پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حکومتی ارکان واضح اکثریت میں ہوں تو اپوزیشن کے لیے اصلاحاتی عمل میں مؤثر کردار ادا کرنا مشکل ہوگا۔

بزنس ریکارڈر کی 4 نومبر کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے پی ٹی آئی کے چیف وہپ عامر ڈوگر سے رابطہ کرکے مجوزہ کمیٹی کے لیے پارٹی کے پانچ ارکان کے نام مانگے۔ عامر ڈوگر نے 15 حکومتی ارکان کے مقابلے میں اپوزیشن کے صرف پانچ ارکان کی مجوزہ نمائندگی پر تحفظات ظاہر کیے اور حکومت سے کمیٹی کی ساخت پر دوبارہ غور کرنے کو کہا۔

پی ٹی آئی رہنما نے تجویز دی کہ حکومت 2013 سے 2018 کے دوران قائم انتخابی اصلاحات کمیٹی کی ساخت کا جائزہ لے اور نئی کمیٹی تشکیل دیتے وقت اس دور کے نمائندگی کے طریقہ کار کو بھی سامنے رکھے۔ انہوں نے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں کی حراست یا قانونی مقدمات کا حوالہ دیتے ہوئے موجودہ سیاسی ماحول میں انتخابی اصلاحات پر بات چیت کے مؤثر ہونے پر بھی سوال اٹھایا۔ یہ پی ٹی آئی کا سیاسی مؤقف ہے اور متعلقہ حراستوں یا مقدمات کی قانونی حیثیت الگ عدالتی عمل سے طے ہوتی ہے۔

دوسری جانب حکمران مسلم لیگ ن اپنے مجوزہ حصے میں کمی کرکے اتحادی جماعتوں کو زیادہ نمائندگی دینے پر غور کر رہی ہے۔ رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ پاکستان اور دیگر اتحادی جماعتوں کی نمائندگی یقینی بنانے کے لیے مشاورت جاری ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف بھی مبینہ طور پر تمام اتحادی جماعتوں کو عمل میں شامل کرنے کے خواہاں ہیں۔

ممکنہ انتظام کے تحت مسلم لیگ ن کی قومی اسمبلی سے نمائندگی نو ارکان سے کم ہو سکتی ہے، جبکہ مسلم لیگ ق، استحکام پاکستان پارٹی، مسلم لیگ ضیا اور دیگر چھوٹی جماعتوں کے ایک ایک رکن کو جگہ دینے کی تجاویز بھی زیر غور ہیں۔ تاہم کمیٹی کی حتمی تعداد، جماعتی تناسب اور ارکان کے نام ابھی باضابطہ طور پر طے نہیں ہوئے، اس لیے ان تجاویز کو حتمی تشکیل نہیں سمجھا جا سکتا۔

انتخابی اصلاحات کی پارلیمانی کمیٹی کا مقصد انتخابی قوانین، طریقہ کار اور متعلقہ ادارہ جاتی مسائل پر سیاسی اتفاق رائے پیدا کرنا ہوگا۔ پاکستان میں انتخابی قوانین پر بڑی تبدیلیوں کے لیے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کم از کم عملی سطح کی مشاورت اہم سمجھی جاتی ہے، کیونکہ یکطرفہ اصلاحات بعد میں سیاسی تنازع اور قانونی چیلنجز کا باعث بن سکتی ہیں۔

موجودہ اختلاف ابھی کمیٹی کی تشکیل کے مرحلے پر ہے، کسی انتخابی قانون یا ترمیم کے متن پر نہیں۔ اگلی اہم پیش رفت یہ ہوگی کہ حکومت اپوزیشن کے اعتراض کے بعد نمائندگی کا تناسب تبدیل کرتی ہے یا موجودہ تجویز برقرار رکھتی ہے، اور آیا پی ٹی آئی حتمی ساخت سامنے آنے کے بعد اپنے ارکان نامزد کرتی ہے۔