مسلسل اپ ڈیٹس

لاہور ہائیکورٹ: آن لائن خریداری میں ادائیگی کے بعد بھی صارف کا تحفظ

لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ جو شخص آن لائن آرڈر کے عوض سامان کی قیمت ادا کر دے وہ پنجاب کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ 2005 کے تحت 'صارف' شمار ہوگا چاہے فروخت کنندہ آرڈر مکمل نہ کرے۔ جسٹس ملک وقار حیدر اعوان نے ڈاکٹر محمد احتشام قمر کی درخواست میں کہا کہ ادائیگی اور تجارتی لین دین کی تشکیل صارفیت کے تعین کے لیے اہم ہے۔ مقدمے کے حقائق کے مطابق درخواست گزار نے کریڈٹ کارڈ سے دو ملبوسات مجموعی طور پر 6,480 روپے میں خریدے، ویب سائٹ پر ایک تا پانچ کاروباری دن میں ترسیل کا وعدہ تھا مگر آرڈر 17 دن بعد کووئڈ-19 کا حوالہ دیتے ہوئے منسوخ کیا گیا؛ درخواست میں رقم کی واپسی کے ساتھ 21 لاکھ روپے سے زائد ہرجانے کا دعویٰ تھا، جبکہ فروخت کنندہ نے بعد ازاں رقم واپس کرنے اور اسٹاک نہ ہونے کا مؤقف دیا۔ ہائیکورٹ نے واضح کیا کہ یہ تشریح آن لائن فروخت کے تنازعات میں صارفین کو حفاظتی حقوق سے محروم نہیں کرے گی، تاہم خودکار طور پر ہرجانے کی ضمانت نہیں ملتی اور ہر مقدمہ شواہد و معاہدہ کی شرائط کی بنیاد پر الگ طرز پر طے ہوگا۔ اس فیصلے سے ای-کامرس میں آرڈر، منسوخی اور ریفنڈ پالیسیوں کی اہمیت اور صارفین کے لیے ادائیگی کے ریکارڈ محفوظ رکھنے کی افادیت مزید بڑھتی ہے۔

1 خبریںاہم موضوعآخری خبر:

خبروں کا تسلسل · تازہ ترین پہلے

لاہور ہائیکورٹ: آن لائن خریداری میں ادائیگی کے بعد بھی صارف کا تحفظ | اردو ہیڈ لائنز