لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے آن لائن تجارت اور صارفین کے حقوق سے متعلق ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ کوئی شخص آن لائن لین دین کے ذریعے سامان کی قیمت ادا کرنے کے بعد پنجاب کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ 2005 کے تحت ’صارف‘ کی حیثیت رکھتا ہے، چاہے خریدا گیا سامان اسے کبھی فراہم نہ کیا گیا ہو۔ ڈان کی 6 نومبر کی رپورٹ کے مطابق جسٹس ملک وقار حیدر اعوان نے ڈاکٹر محمد احتشام قمر کی ایک معروف ملبوسات برانڈ کے خلاف درخواست نمٹاتے ہوئے یہ قانونی نکتہ واضح کیا۔
مقدمے کے پس منظر کے مطابق درخواست گزار نے آن لائن دو ملبوسات 6 ہزار 480 روپے میں خریدے اور کریڈٹ کارڈ کے ذریعے ادائیگی کی۔ درخواست میں کہا گیا کہ ویب سائٹ پر ایک سے پانچ کاروباری دن میں ترسیل کا وعدہ موجود تھا، لیکن فروخت کنندہ نے 17 روز بعد کووڈ-19 وبا کا حوالہ دیتے ہوئے آرڈر منسوخ کر دیا۔ درخواست گزار نے رقم کی واپسی کے ساتھ ذہنی اذیت اور مبینہ نقصان پر 21 لاکھ روپے سے زائد ہرجانے کا دعویٰ کیا تھا۔
فروخت کنندہ نے ابتدائی طور پر لین دین سے اختلاف کیا، تاہم بعد میں مؤقف اختیار کیا کہ مطلوبہ سامان اسٹاک میں موجود نہیں رہا تھا اور ادا کی گئی رقم واپس کر دی گئی تھی۔ عدالت کے سامنے بنیادی قانونی سوال یہ تھا کہ جب سامان خریدار تک پہنچا ہی نہیں تو کیا ادائیگی کرنے والا شخص صارف تحفظ قانون کے تحت ’consumer‘ تصور ہوگا یا نہیں۔
ہائیکورٹ نے واضح کیا کہ آن لائن خریداری میں ادائیگی اور تجارتی لین دین کا قیام صارف کی قانونی حیثیت کے لیے اہم ہے۔ سامان کی عدم ترسیل بذاتِ خود اس حیثیت کو ختم نہیں کرتی، کیونکہ ایسی تشریح آن لائن فروخت میں صارف کو اس وقت قانونی تحفظ سے محروم کر دے گی جب اسے تحفظ کی سب سے زیادہ ضرورت ہو۔ فیصلے سے یہ اصول سامنے آتا ہے کہ ڈیجیٹل خریداری میں فروخت کنندہ کی جانب سے آرڈر پورا نہ کرنے کی صورت میں بھی متعلقہ صارف فورم سے رجوع کرنے کا حق برقرار رہ سکتا ہے۔
یہ فیصلہ پاکستان میں تیزی سے بڑھتی ای کامرس کے تناظر میں اہم ہے، جہاں ادائیگی، اسٹاک کی دستیابی، آرڈر کی منسوخی اور رقم کی واپسی سے متعلق تنازعات عام ہو سکتے ہیں۔ عدالت کا فیصلہ کسی بھی مخصوص آن لائن تنازع میں خودکار طور پر ہرجانے کی ضمانت نہیں دیتا؛ ہر مقدمے میں شواہد، معاہدے کی شرائط، ادائیگی، واپسی اور مبینہ نقصان الگ بنیادوں پر جانچے جائیں گے۔
عدالتی تشریح سے تاہم یہ قانونی وضاحت ضرور سامنے آئی ہے کہ سامان نہ پہنچنے کی وجہ سے خریدار کو محض اس بنیاد پر صارف تحفظ قانون کے دائرے سے باہر نہیں کیا جا سکتا۔ اس اصول سے آن لائن کاروبار کرنے والے اداروں کے لیے آرڈر، ترسیل، منسوخی اور ریفنڈ سے متعلق واضح اور قابلِ عمل پالیسیوں کی اہمیت بھی بڑھ جاتی ہے، جبکہ صارفین کے لیے ادائیگی اور آرڈر کا ریکارڈ محفوظ رکھنا کسی ممکنہ قانونی دعوے میں بنیادی ثبوت بن سکتا ہے۔

