اسلام آباد: پاکستان میں رواں سال کا نواں پولیو کیس رپورٹ ہوا ہے، جہاں خیبرپختونخوا کے ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ میں سات ماہ کے بچے میں وائرس کی تصدیق کی گئی۔ قومی ایمرجنسی آپریشن سینٹر (NEOC) کے مطابق متاثرہ بچہ مستک یونین کونسل کا رہائشی ہے۔ ڈان اور ایکسپریس ٹریبیون کی 6 نومبر کی رپورٹس کے مطابق یہ ضلع خیبر میں 2026 کا تیسرا اور خیبرپختونخوا میں ساتواں تصدیق شدہ کیس ہے۔
قومی پولیو پروگرام کے مطابق ضلع خیبر سے سامنے آنے والے تینوں وائرس نمونوں کے جینیاتی تجزیے نے افغانستان میں گردش کرنے والے پولیو وائرس سے تعلق ظاہر کیا ہے۔ افغانستان میں رواں سال پولیو کے 50 کیس رپورٹ ہونے کے تناظر میں حکام نے سرحد پار وائرس کی نقل و حرکت کو ایک اہم خطرہ قرار دیا ہے۔ جینیاتی تعلق کا مطلب یہ ہے کہ وائرس کی متعلقہ زنجیریں ایک دوسرے سے وابستہ ہیں؛ اس سے کسی فرد یا مخصوص راستے کے ذریعے منتقلی کا خودکار تعین نہیں ہوتا۔
پاکستان میں اب تک 2026 کے نو کیسز میں سے سات خیبرپختونخوا اور دو سندھ سے رپورٹ ہوئے ہیں۔ حالیہ کیس ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان اور افغانستان میں ویکسینیشن سرگرمیاں جاری ہیں اور حکام سرحدی علاقوں، نقل مکانی کرنے والی آبادیوں اور پہلے ویکسین سے محروم رہ جانے والے بچوں تک رسائی بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
پولیو ایک انتہائی متعدی وائرل بیماری ہے جو بالخصوص پانچ سال سے کم عمر بچوں کو متاثر کر سکتی ہے اور بعض صورتوں میں مستقل فالج کا سبب بنتی ہے۔ بیماری کا کوئی علاج موجود نہیں، اس لیے حفاظتی ویکسین اور بار بار کی ویکسینیشن مہمات وائرس کی منتقلی روکنے کا بنیادی ذریعہ ہیں۔ پاکستان اور افغانستان دنیا کے ان آخری ممالک میں شامل ہیں جہاں جنگلی پولیو وائرس کی مقامی گردش بدستور موجود ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بھی حالیہ کیسز کے بعد پولیو کے خاتمے کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان مربوط حکمت عملی پر زور دیا ہے اور حکام کو ایکشن پلان تیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ حکومتی سطح پر تشویش کی بڑی وجہ یہ ہے کہ چند اضلاع میں مسلسل کیسز وائرس کے مقامی یا سرحد پار پھیلاؤ کے لیے جگہ برقرار رہنے کی نشاندہی کرتے ہیں۔
ماہرین اور پولیو پروگرام مسلسل اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ہر مہم میں تمام اہل بچوں تک ویکسین پہنچانا ضروری ہے۔ کسی علاقے میں چند بچے بھی بار بار ویکسین سے محروم رہ جائیں تو وائرس کے پھیلاؤ کی زنجیر برقرار رہ سکتی ہے۔ ضلع خیبر کا تازہ کیس اسی لیے صرف ایک انفرادی انفیکشن نہیں بلکہ نگرانی، ویکسین کوریج اور پاکستان افغانستان سرحد کے دونوں جانب مربوط انسدادِ پولیو اقدامات کے لیے ایک اہم صحتِ عامہ کا اشارہ ہے۔
