اسلام آباد: وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے ملک میں سیاحت کے فروغ کے لیے ایک خودمختار پاکستان ٹورازم اتھارٹی قائم کرنے کی تجویز دی ہے جس میں چاروں صوبوں کی نمائندگی ہو۔ ریڈیو پاکستان، بزنس ریکارڈر اور سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کی رپورٹنگ کے مطابق وزیر منصوبہ بندی نے یہ بات وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ کے ساتھ ایک اجلاس میں کہی جس میں قومی سطح پر سیاحت اور کھیلوں کے فروغ کے ادارہ جاتی انتظام پر غور کیا گیا۔

احسن اقبال نے کہا کہ مجوزہ اتھارٹی کا کردار صوبوں کے درمیان رابطہ قائم کرنا اور پاکستان کو عالمی سطح پر ایک متحد سیاحتی منزل کے طور پر پیش کرنے میں معاونت فراہم کرنا ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق ملک قدرتی حسن اور متنوع سیاحتی وسائل رکھتا ہے، لیکن ان وسائل سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے جامع حکمت عملی، ادارہ جاتی تعاون اور وفاقی و صوبائی سطح پر بہتر ہم آہنگی درکار ہے۔

اجلاس میں وزیراعظم کے رابطہ کار برائے سیاحت سردار یاسر الیاس خان نے 2025-26 کے دوران سیاحت کے فروغ کے لیے کیے گئے اقدامات اور حاصل شدہ پیش رفت پر بریفنگ دی۔ شرکا نے سیاحت کے ساتھ کھیلوں کے فروغ کے لیے بھی قومی سطح کے مؤثر ادارہ جاتی انتظام اور صوبوں کے درمیان رابطہ مضبوط کرنے کی ضرورت پر تبادلہ خیال کیا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ پاکستان ٹورازم، اسپورٹس اینڈ فیملی فیسٹیول 2026 اسلام آباد میں 6، 7 اور 8 نومبر کو منعقد کیا جائے گا۔ اس دوران وفاقی دارالحکومت کے مختلف مقامات، جن میں لیک ویو پارک بھی شامل ہے، پر سیاحتی اور تفریحی سرگرمیاں منعقد کرنے کا منصوبہ ہے۔ حکام کے مطابق فیسٹیول کے انعقاد کے لیے نجی شعبے سے اسپانسرشپ بھی حاصل کی گئی ہے۔

مجوزہ پاکستان ٹورازم اتھارٹی فی الحال ایک پالیسی تجویز ہے۔ دستیاب سرکاری رپورٹنگ میں اس کے باضابطہ قیام، قانونی ڈھانچے، بجٹ یا آغاز کی تاریخ کی حتمی منظوری کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اس لیے وزیر منصوبہ بندی کے بیان کو قائم شدہ ادارے کے بجائے مستقبل کے قومی رابطہ جاتی فریم ورک کی تجویز کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

پاکستان میں سیاحت سے متعلق بہت سے انتظامی اور ترقیاتی معاملات صوبائی دائرہ کار سے بھی وابستہ ہیں، جس کی وجہ سے مجوزہ وفاقی سطح کے ادارے میں صوبائی نمائندگی پر زور اہم ہے۔ احسن اقبال کے مطابق بہتر رابطہ ملک کے مختلف سیاحتی علاقوں کو ایک مشترکہ قومی برانڈ کے تحت بیرون ملک متعارف کرانے اور سیاحتی سرگرمیوں کے فروغ میں مدد دے سکتا ہے۔ آئندہ مرحلے میں یہ واضح ہوگا کہ حکومت اس تجویز کو کس ادارہ جاتی اور قانونی شکل میں آگے بڑھاتی ہے۔