اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں بلدیاتی انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے جاری کردہ شیڈول کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق چوہدری امجد علی نے بیرسٹر عادل عزیز قاضی کے ذریعے درخواست دائر کی ہے، جس میں الیکشن کمیشن کے 21 اکتوبر 2026 کے حکم اور اس کے تحت جاری انتخابی پروگرام کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔

درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ موجودہ حلقہ بندیوں کی قانونی حیثیت کا تعین کیے بغیر بلدیاتی انتخابات کا انعقاد نہیں ہونا چاہیے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد میں مقامی حکومت کے انتخابی حلقوں کے قانونی ڈھانچے کو پہلے واضح کیا جائے اور اس کے بعد قانون کے مطابق نئی اور شفاف حلقہ بندیاں کی جائیں۔ یہ درخواست گزار کا قانونی مؤقف ہے؛ عدالت نے ابھی اس دعوے کو حتمی طور پر درست یا غلط قرار نہیں دیا۔

درخواست کے مطابق اسلام آباد کے بلدیاتی اداروں کی قانونی مدت فروری 2021 میں ختم ہوگئی تھی اور الیکشنز ایکٹ 2017 کے تحت مدت ختم ہونے کے 120 روز کے اندر انتخابات کا انعقاد قانونی تقاضا تھا۔ درخواست میں انتخابی عمل کو حتمی عدالتی فیصلے اور نئی حلقہ بندیوں تک معطل یا مؤخر کرنے کی بھی استدعا کی گئی ہے۔ الیکشن کمیشن، وزارت داخلہ، وزارت قانون و انصاف، کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور دیگر متعلقہ اداروں کو فریق بنایا گیا ہے۔

الیکشن کمیشن کے موجودہ پروگرام کے مطابق کاغذات نامزدگی 2 سے 6 نومبر 2026 تک جمع ہونا تھے جبکہ پولنگ 20 دسمبر 2026 کے لیے مقرر کی گئی ہے۔ درخواست گزار نے الزام عائد کیا ہے کہ انتخابات پرانی حلقہ بندیوں کی بنیاد پر کرائے جا رہے ہیں۔ چونکہ یہ معاملہ عدالت کے سامنے زیر سماعت ہے، اس لیے اس الزام کو ثابت شدہ عدالتی نتیجہ نہیں سمجھا جا سکتا۔

درخواست میں حلقہ بندیوں کے سابقہ مراحل کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔ اس کے مطابق الیکشن کمیشن نے 12 دسمبر 2024 کو حلقہ بندیوں کا شیڈول جاری کیا تھا، جبکہ 26 دسمبر 2025 کو ایک نیا انتخابی پروگرام جاری کرکے 15 فروری 2026 کو پولنگ کی تاریخ مقرر کی گئی تھی۔ بعد میں قانونی فریم ورک میں تبدیلیوں کے بعد وہ پروگرام واپس لے لیا گیا۔

درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ 14 اکتوبر 2026 کو فارم 09 کے ذریعے جاری حتمی فہرستوں میں تین ٹاؤن کارپوریشنز کے تحت 130 یونین کونسلیں دکھائی گئی ہیں، جبکہ درخواست گزار کے مطابق اسلام آباد لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2015 میں 125 یونین کونسلوں اور 1,125 جنرل وارڈز کا قانونی ڈھانچہ موجود ہے۔ عدالت سے اسی تضاد اور حلقہ بندیوں کے قانونی و ادارہ جاتی فریم ورک کا تعین کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ انتخابی شیڈول خود بخود معطل ہوگیا ہے۔ انتخابی عمل پر کسی عملی پابندی یا شیڈول کی منسوخی کے لیے عدالت کا باقاعدہ حکم درکار ہوگا۔ آئندہ عدالتی کارروائی میں الیکشن کمیشن اور دیگر فریقوں کا جواب، متعلقہ قانون اور حلقہ بندیوں کے سرکاری ریکارڈ اہم ہوں گے۔