اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے پشاور ہائیکورٹ کو پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں اور سرگرم افراد کی مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) آرڈیننس 1960 کے تحت حفاظتی نظربندی سے متعلق مقدمات کی سماعت سے روک دیا ہے۔ بزنس ریکارڈر کی 6 نومبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق یہ حکم ایسے مقدمات کے قانونی دائرہ اختیار اور آئینی عدالت کے سامنے زیر غور معاملات کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق وفاقی آئینی عدالت میں جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں معاملہ زیر سماعت آیا۔ عدالت نے پشاور ہائیکورٹ کو متعلقہ ایم پی او حراستوں کے مقدمات پر مزید کارروائی سے روکنے کی ہدایت دی۔ یہ عبوری عدالتی پیش رفت ہے اور اسے زیر حراست افراد کے خلاف الزامات یا ان کی نظربندی کے قانونی جواز پر حتمی فیصلہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ حتمی نتیجہ متعلقہ مقدمات میں عدالتی سماعت اور وجوہات پر مبنی فیصلوں کے بعد واضح ہوگا۔

ایم پی او قانون انتظامیہ کو مخصوص حالات میں امن عامہ برقرار رکھنے کے لیے حفاظتی نظربندی کے اختیارات فراہم کرتا ہے، لیکن ایسے احکامات عدالتی جانچ سے بالاتر نہیں ہوتے۔ زیر حراست افراد یا ان کے اہل خانہ نظربندی کے قانونی جواز، طریقہ کار اور بنیادی حقوق کے تناظر میں عدالتوں سے رجوع کر سکتے ہیں۔ موجودہ تنازع میں بھی بنیادی سوال یہ ہے کہ متعلقہ درخواستوں پر کس عدالتی فورم کو سماعت کا اختیار حاصل ہے اور آئینی عدالت کی کارروائی کے دوران ہائیکورٹ کس حد تک آگے بڑھ سکتی ہے۔

پی ٹی آئی کے کارکنوں کی حراست کا معاملہ سیاسی طور پر حساس بھی ہے، اس لیے انتظامی دعووں اور عدالتی طور پر ثابت شدہ حقائق میں فرق رکھنا ضروری ہے۔ کسی شخص کی ایم پی او کے تحت نظربندی فوجداری مقدمے میں جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں ہوتی۔ انتظامیہ کو اپنے حکم کے لیے قانونی بنیاد دکھانا ہوتی ہے، جبکہ متاثرہ شخص کو قانون کے مطابق عدالتی چارہ جوئی کا حق حاصل رہتا ہے۔

وفاقی آئینی عدالت کے حکم کے بعد پشاور ہائیکورٹ میں زیر سماعت متعلقہ درخواستوں کی پیش رفت متاثر ہوگی، تاہم اس سے تمام قانونی سوالات خود بخود طے نہیں ہو جاتے۔ آئندہ سماعتوں میں آئینی دائرہ اختیار، عدالتی نظائر اور ایم پی او کے تحت جاری کیے گئے انفرادی احکامات کی نوعیت اہم رہ سکتی ہے۔

یہ پیش رفت پاکستان کے عدالتی نظام میں آئینی عدالت اور ہائیکورٹس کے باہمی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم عملی مثال بھی ہے۔ عدالت کا تفصیلی یا حتمی فیصلہ سامنے آنے کے بعد ہی یہ واضح ہوگا کہ اس حکم کے دیگر اسی نوعیت کے مقدمات پر کیا قانونی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ فی الحال قابل تصدیق نتیجہ یہی ہے کہ وفاقی آئینی عدالت نے متعلقہ پی ٹی آئی کارکنوں کی ایم پی او نظربندی کے مقدمات میں پشاور ہائیکورٹ کو سماعت جاری رکھنے سے روک دیا ہے۔