مسلسل اپ ڈیٹس

لاہور ہائیکورٹ: ضابطہ فوجداری دفعات — دفعہ 30 کے تحت مجسٹریٹ کا دائرہ اختیار

لاہور ہائیکورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 30 کے تحت خصوصی اختیارات رکھنے والا جوڈیشل مجسٹریٹ ایسے جرائم کا ٹرائل کر سکتا ہے جو عام طور پر سیشن عدالت کے لیے شیڈول کیے گئے ہوں، بشرطیکہ سزاِ موت مقرر نہ ہو یا کوئی خصوصی قانون مجسٹریٹ کے اختیار کو خارج نہ کرے۔ عدالت نے کہا کہ دورانِ ٹرائل کسی اضافی جرم کے شامل ہونے سے مجسٹریٹ کا اختیار ختم نہیں ہوتا جب تک وہ جرم سزائے موت کا حامل نہ ہو یا خصوصی قانون واضح استثنا نہ دے۔ اسی رپورٹ میں ہائیکورٹ نے پولیس کی منسوخی (cancellation) سفارشات کی صورت میں مجسٹریٹ کو صرف مدعی کے الزامات پر سمن جاری نہ کرنے، بلکہ رییکارڈ کا آزادانہ جائزہ لے کر قابلِ الزام مواد کی موجودگی کو جانچنے کا کہہ دیا۔ زیرِ سماعت درخواست دفعہ 561‑A کے تحت دائر کی گئی تھی اور مقدمے کا حوالہ شکوٰیٰ کنندہ محمد نادر علی سے متعلق ہے۔

1 خبریںاہم موضوعآخری خبر:

خبروں کا تسلسل · تازہ ترین پہلے