لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے فوجداری دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 30 کے تحت خصوصی اختیارات رکھنے والا جوڈیشل مجسٹریٹ ایسے جرائم کا ٹرائل بھی کر سکتا ہے جنہیں ضابطے کے دوسرے شیڈول میں عام طور پر سیشن عدالت کے لیے درج کیا گیا ہو، تاہم یہ اختیار ان جرائم تک نہیں پھیلتا جن کی سزا موت ہو یا کسی خصوصی قانون نے مقدمہ کسی دوسری عدالت کے لیے مخصوص کیا ہو۔

ایکسپریس ٹریبیون کی 5 نومبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق جسٹس محمد جواد ظفر نے ایک درخواست مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ دفعہ 30 کے مجسٹریٹ کی اہلیت جانچنے کا بنیادی معیار یہ ہے کہ متعلقہ جرم میں سزائے موت مقرر ہے یا نہیں۔ صرف یہ حقیقت کہ دوسرے شیڈول میں کسی جرم کے عام ٹرائل فورم کے طور پر سیشن عدالت درج ہے، خصوصی اختیار رکھنے والے مجسٹریٹ کے دائرہ اختیار کو خود بخود ختم نہیں کرتی۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ دورانِ ٹرائل کسی اضافی جرم کو فردِ جرم میں شامل کیے جانے سے مجسٹریٹ کا اختیار ختم نہیں ہوتا، جب تک شامل کیا گیا جرم سزائے موت کا حامل نہ ہو یا کوئی خصوصی قانون واضح طور پر مجسٹریٹ کے اختیار کو خارج نہ کرے۔ زیرِ سماعت درخواست احمد سعید اختر نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 561-A کے تحت دائر کی تھی اور ماتحت عدالتوں کے دو احکامات کو چیلنج کیا تھا۔ مقدمہ محمد نادر علی کی شکایت سے متعلق تھا۔

اسی رپورٹ میں لاہور ہائیکورٹ کے ایک دوسرے فیصلے کا بھی ذکر ہے جس میں عدالت نے کہا کہ اگر پولیس کسی فوجداری مقدمے کی منسوخی کی سفارش کرے تو مجسٹریٹ محض شکایت کنندہ کے الزامات کی بنیاد پر کسی شخص کو ٹرائل کے لیے طلب نہیں کر سکتا۔ عدالت کے مطابق پولیس رپورٹ سے اختلاف کی صورت میں ریکارڈ پر آزادانہ طور پر ایسا قابلِ الزام مواد موجود ہونا چاہیے جو سمن جاری کرنے کی بنیاد بن سکے۔

عدالت نے اس امر پر زور دیا کہ کسی فرد کو فوجداری مقدمے کا سامنا کرنے کے لیے طلب کرنا معمولی انتظامی قدم نہیں، کیونکہ اس سے آزادی پر ممکنہ پابندی، طویل عدالتی کارروائی اور فوجداری الزام کا سماجی اثر وابستہ ہوتا ہے۔ اس لیے مجسٹریٹ کو پولیس کی منسوخی رپورٹ مسترد کرتے وقت ریکارڈ میں موجود مواد کا آزادانہ جائزہ لینا ہوگا۔

یہ فیصلے ماتحت عدلیہ میں فوجداری مقدمات کی تقسیم اور ملزمان کو طلب کرنے کے قانونی معیار کی وضاحت کرتے ہیں۔ ان کا اطلاق ہر مقدمے کے حقائق، متعلقہ دفعات اور کسی خصوصی قانون میں موجود پابندیوں کو دیکھتے ہوئے کیا جائے گا۔