
شام مکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت پر غور کر رہا ہے، وزیر خارجہ اسعد الشیبانی
شامی وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے منامہ ڈائیلاگ میں کہا ہے کہ دمشق پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں ممکنہ شمولیت کا جائزہ لے رہا ہے۔
31 اکتوبر، 2026شام کے وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے منامہ ڈائیلاگ میں کہا کہ دمشق پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں ممکنہ شمولیت پر غور کر رہا ہے اور اس بارے میں بات چیت جاری ہے۔ الشیبانی نے واضح کیا کہ یہ شمولیت کا حتمی اعلان نہیں بلکہ اتحاد میں داخلے کے امکان پر غور کی تصدیق ہے۔ مکہ معاہدہ 7 اگست 2026 کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان طے پایا تھا اور اس میں کسی رکن پر مسلح حملے کو تمام ارکان کے خلاف حملہ تصور کرنے کا اجتماعی دفاعی اصول شامل ہے۔ پاکستانی عسکری قیادت نے معاہدے کے مقصد کو اجتماعی دفاع اور ڈیٹرنس قرار دیا ہے اور نئے اراکین کی منظوری سیاسی قیادت کے اختیارات میں ہوگی۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ شام اور پاکستان کے درمیان دفاعی رابطے حالیہ مہینوں میں بڑھے ہیں اور شام کے ممکنہ الحاق کے لیے موجودہ تینوں رکن ممالک کی سیاسی منظوری درکار ہوگی؛ کسی باقاعدہ الحاق یا ٹائم لائن کا اعلان نہیں ہوا۔