مسلسل اپ ڈیٹس

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ — شام کی ممکنہ شمولیت

شام کے وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے منامہ ڈائیلاگ میں کہا کہ دمشق پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں ممکنہ شمولیت پر غور کر رہا ہے اور اس بارے میں بات چیت جاری ہے۔ الشیبانی نے واضح کیا کہ یہ شمولیت کا حتمی اعلان نہیں بلکہ اتحاد میں داخلے کے امکان پر غور کی تصدیق ہے۔ مکہ معاہدہ 7 اگست 2026 کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان طے پایا تھا اور اس میں کسی رکن پر مسلح حملے کو تمام ارکان کے خلاف حملہ تصور کرنے کا اجتماعی دفاعی اصول شامل ہے۔ پاکستانی عسکری قیادت نے معاہدے کے مقصد کو اجتماعی دفاع اور ڈیٹرنس قرار دیا ہے اور نئے اراکین کی منظوری سیاسی قیادت کے اختیارات میں ہوگی۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ شام اور پاکستان کے درمیان دفاعی رابطے حالیہ مہینوں میں بڑھے ہیں اور شام کے ممکنہ الحاق کے لیے موجودہ تینوں رکن ممالک کی سیاسی منظوری درکار ہوگی؛ کسی باقاعدہ الحاق یا ٹائم لائن کا اعلان نہیں ہوا۔

1 خبریںاہم موضوعآخری خبر:

خبروں کا تسلسل · تازہ ترین پہلے

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ — شام کی ممکنہ شمولیت | اردو ہیڈ لائنز