منامہ: شام کے وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے کہا ہے کہ دمشق پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں ممکنہ شمولیت کا جائزہ لے رہا ہے۔ انہوں نے بحرین میں منامہ ڈائیلاگ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ اس بارے میں بات چیت جاری ہے۔ ان کا بیان شمولیت کے حتمی فیصلے کا اعلان نہیں بلکہ شام کی جانب سے اتحاد میں داخلے کے امکان پر جاری غور کی تصدیق ہے۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ رواں سال 7 اگست کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان طے پایا تھا۔ معاہدے کے تحت کسی ایک رکن پر مسلح حملے کو تمام ارکان کے خلاف حملہ تصور کرنے کا اجتماعی دفاعی اصول شامل ہے۔ پاکستانی عسکری قیادت پہلے یہ واضح کر چکی ہے کہ اتحاد کا مقصد جارحانہ کارروائی نہیں بلکہ اجتماعی دفاع اور ڈیٹرنس ہے، اور نئے ارکان کی شمولیت کا فیصلہ سیاسی قیادت کے دائرہ اختیار میں ہوگا۔
شامی سرکاری خبر رساں ادارے سانا کے مطابق الشیبانی نے علاقائی تنازعات پر گفتگو کرتے ہوئے خلیجی ریاستوں کے خلاف جارحیت کی مخالفت کی اور میزائل و ڈرون حملوں کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ شام اپنے جغرافیائی محل وقوع کو ہمسایہ ممالک کیلئے خطرے کے پلیٹ فارم کے بجائے معاشی رابطے اور مفادات کے تبادلے کیلئے پل بنانا چاہتا ہے۔ انہوں نے شام پر بار بار ہونے والے اسرائیلی حملوں کی بھی مذمت کی، مقبوضہ گولان کو شامی سرزمین قرار دیا اور آزاد فلسطینی ریاست کیلئے سیاسی راستے کی حمایت کی۔
شام کی ممکنہ شمولیت ایسے وقت زیر غور ہے جب سعودی عرب پر حوثی حملوں اور مشرق وسطیٰ میں وسیع تر کشیدگی کے باعث علاقائی دفاعی انتظامات تیزی سے اہم ہو رہے ہیں۔ پاکستان پہلے ہی سعودی عرب کے ساتھ دو دفاعی فریم ورکس کا حصہ ہے، جن میں دوطرفہ اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ اور ترکی سمیت مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ شامل ہیں۔ پاکستان کی فوجی قیادت نے حالیہ ہفتوں میں کہا ہے کہ سعودی عرب کے دفاع کیلئے ضرورت کے مطابق تعاون فراہم کیا جا رہا ہے۔
شام اور پاکستان کے درمیان دفاعی اور سکیورٹی رابطے بھی حالیہ مہینوں میں بڑھے ہیں۔ اگست میں شامی وزیر خارجہ نے پاکستان کے دورے کے دوران چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی تھی، جس میں علاقائی سلامتی اور دوطرفہ دفاعی تعاون پر تبادلہ خیال ہوا۔ تاہم مکہ معاہدے میں شام کی شمولیت کیلئے تین موجودہ ارکان کی سیاسی منظوری درکار ہوگی، اور ابھی کسی باقاعدہ الحاق یا ٹائم لائن کا اعلان نہیں کیا گیا۔

