واشنگٹن: امریکی میڈیا میں سامنے آنے والی ایک رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ قطر میں موجود بعض افغان پناہ گزینوں کو پاکستان بھیجنے کی تیاری کر رہی ہے اور مجوزہ پرواز پیر سے شروع ہو سکتی ہے۔ اس پیش رفت کی امریکی حکومت نے عوامی طور پر حتمی تصدیق نہیں کی، اس لیے اسے فی الحال رپورٹ شدہ منصوبہ سمجھا جا رہا ہے، نہ کہ مکمل شدہ ملک بدری یا باقاعدہ اعلان شدہ پالیسی۔

ایکسپریس ٹریبیون نے انادولو ایجنسی کے حوالے سے بتایا کہ این بی سی نیوز کی رپورٹ میں حقوق کے کارکنوں اور زیر حراست افراد کے اہل خانہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پاکستان پہنچنے کے بعد ان افغان شہریوں کو بالآخر افغانستان واپس بھیجا جا سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق متعلقہ پرواز کی منزل اور روانگی کے وقت کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔ امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے بھی رپورٹ میں بیان کردہ مخصوص پرواز کی عوامی تصدیق سامنے نہیں آئی۔

یہ معاملہ قطر کے کیمپ اس سیلیہ میں مقیم افغان شہریوں کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ امریکی حکام نے اس مرکز سے لوگوں کے انخلا کے لیے پہلے 31 مارچ کی آخری تاریخ مقرر کی تھی، جسے بعد میں 30 ستمبر تک بڑھایا گیا۔ رپورٹ کے مطابق ستمبر میں کیمپ کی بندش مزید نو ماہ کے لیے مؤخر کر دی گئی تھی۔ اس سے وہاں موجود افغان خاندانوں کی قانونی اور رہائشی حیثیت کے بارے میں غیر یقینی صورت حال طویل ہو گئی۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکی انتظامیہ نے رواں سال ایک مرحلے پر ان افغان پناہ گزینوں کو جمہوریہ کانگو منتقل کرنے کے امکان پر بھی غور کیا تھا۔ اب پاکستان کو ممکنہ منزل کے طور پر پیش کیے جانے پر افغان مہاجرین کی وکالت کرنے والی تنظیم AfghanEvac نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ تنظیم کا مؤقف ہے کہ ایسے افراد کی منتقلی میں ان کی سلامتی اور ممکنہ جبری واپسی کے خطرے کو بنیادی اہمیت دی جانی چاہیے۔

پاکستان پہلے ہی بڑی تعداد میں افغان شہریوں کی میزبانی، دستاویزی حیثیت اور واپسی کے معاملات سے نمٹ رہا ہے، اس لیے کسی تیسرے ملک سے نئی منتقلی کی صورت میں اسلام آباد کی رضامندی، قانونی طریقہ کار اور متاثرہ افراد کی حیثیت اہم سوالات ہوں گے۔ دستیاب رپورٹ میں پاکستانی حکومت کی جانب سے اس مخصوص مجوزہ پرواز کی منظوری یا وصولی کی تصدیق شامل نہیں ہے۔

اس مرحلے پر تصدیق شدہ بات صرف یہ ہے کہ امریکی میڈیا اور مہاجرین کے حقوق سے وابستہ حلقوں نے ایک ممکنہ منصوبے کی اطلاع دی ہے۔ آیا پرواز واقعی پیر کو روانہ ہوتی ہے، کتنے افراد اس میں شامل ہوں گے اور پاکستان پہنچنے کے بعد ان کی قانونی حیثیت کیا ہوگی، یہ امور سرکاری اعلانات اور عملی پیش رفت کے بعد ہی واضح ہوں گے۔