واشنگٹن: امریکی حکومت نے یوکرین کے لیے 500 پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کی ممکنہ فروخت کی منظوری دے دی ہے، ایسے وقت میں جب کیف روسی ڈرون اور میزائل حملوں کے مقابلے کے لیے فضائی دفاعی ذخائر میں کمی کی شکایت کر رہا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق مجوزہ فروخت کا مقصد یوکرین کی موجودہ اور مستقبل کی فضائی اور میزائل دفاعی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت بہتر بنانا ہے۔

یہ منظوری حتمی ترسیل کے مترادف نہیں ہے۔ امریکی طریقہ کار کے تحت مجوزہ فروخت کانگریس کے جائزے کے لیے پیش کی جائے گی اور اس کے بعد معاہدے، ادائیگی اور ترسیل کے مراحل طے ہوں گے۔ محکمہ خارجہ کے بیان میں میزائلوں کی فراہمی کے ممکنہ شیڈول کی تفصیل نہیں دی گئی۔

یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے اس اعلان کے بعد کہا کہ نئے آرڈر کے تحت ترسیل شروع ہونے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔ انہوں نے امریکی اور یورپی شراکت داروں سے ایسا عبوری حل تلاش کرنے کا مطالبہ کیا جس کے تحت اتحادی اپنے موجودہ ذخائر میں سے انٹرسیپٹر یوکرین کو فراہم کریں اور بعد میں نئے آرڈر سے ان ذخائر کو دوبارہ پورا کیا جائے۔ انہوں نے خاص طور پر PAC-3 انٹرسیپٹرز کی فوری ضرورت کا ذکر کیا۔

پیٹریاٹ نظام یوکرین کے فضائی دفاع کے اہم ترین حصوں میں شمار ہوتا ہے اور اسے روسی میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ مجوزہ فروخت امریکی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے مقاصد کی حمایت کرے گی اور ایک شراکت دار ملک کی دفاعی صلاحیت بہتر بنائے گی۔

بیان کے مطابق خریداری کے لیے رقم امریکا کے بجائے یوکرین کے اتحادی ممالک کی عطیات سے فراہم کی جائے گی۔ یہ پیش رفت واشنگٹن اور کیف کے تعلقات میں حالیہ تناؤ کے پس منظر میں سامنے آئی ہے، تاہم دونوں حکومتوں کے درمیان رابطے جاری ہیں۔

فروخت کی منظوری اور عملی دستیابی میں فرق اہم ہے: یوکرین کی فوری دفاعی ضرورت موجودہ ذخائر سے متعلق ہے، جبکہ نئے میزائلوں کی تیاری اور فراہمی طویل مدتی عمل ہو سکتی ہے۔ اس لیے آئندہ توجہ کانگریس کے جائزے، اتحادیوں کی مالی شراکت اور اس بات پر رہے گی کہ آیا عبوری مدت میں موجودہ پیٹریاٹ ذخائر سے کیف کو اضافی انٹرسیپٹر فراہم کیے جاتے ہیں یا نہیں۔