تہران: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکا اور اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف دوبارہ فوجی یا دہشت گرد حملہ کیا گیا تو ایرانی مسلح افواج جواب کے وقت، دائرہ اور اختتام کی شرائط خود طے کریں گی۔ یہ مؤقف ان سے منسوب ایک تحریری بیان میں سامنے آیا ہے، جسے ان کی سرکاری ویب سائٹ پر جاری کیا گیا۔ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب خطے میں دوبارہ حملوں کے خدشات کے ساتھ سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔
رپورٹ کے مطابق خامنہ ای نے اعلیٰ فوجی کمانڈروں سے ملاقات کی، جن میں مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف علی عبداللہی، آرمی چیف امیر حاتمی اور پاسداران انقلاب کے کمانڈر احمد وحیدی شامل تھے۔ بیان میں کہا گیا کہ سپریم لیڈر نے فوجی قیادت کو ہدایت دی کہ کسی بھی سطح یا نوعیت کے خطرے کا فوری، مؤثر اور جغرافیائی طور پر غیر محدود جواب دینے کی تیاری رکھی جائے۔ انہوں نے مبینہ طور پر اہداف کی فہرست کو بھی اپ ڈیٹ کرنے کا حکم دیا تاکہ امریکی اور اسرائیلی مفادات سے متعلق مختلف اقسام کے اثاثے اس میں شامل کیے جا سکیں۔
یہ دھمکی ایک انتہائی کشیدہ علاقائی پس منظر میں سامنے آئی ہے۔ فروری میں امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد وسیع تر جنگ شروع ہوئی تھی اور ایران نے خطے کے مختلف مقامات پر جوابی کارروائیاں کی تھیں۔ موجودہ بیان کو کسی نئی فوجی کارروائی کی تصدیق نہیں سمجھا جا سکتا؛ یہ ایران کی جانب سے مستقبل کے ممکنہ حملے کے جواب کے بارے میں سرکاری سطح کی دھمکی اور دفاعی پوزیشن ہے۔
اسی دوران کشیدگی کم کرنے کیلئے سفارتی رابطے بھی جاری ہیں۔ قطری وفد تہران پہنچا ہے اور ایرانی حکام سے بات چیت کر رہا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق تہران کو امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی جانب سے ایک خط بھی موصول ہوا ہے، تاہم رپورٹ کے وقت ایران نے اس کا جواب نہیں دیا تھا۔ اس متوازی پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک طرف فوجی ڈیٹرنس کے سخت پیغامات دیے جا رہے ہیں اور دوسری طرف مذاکرات کے راستے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے۔
ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان حالیہ جنگ نے خلیج اور مشرق وسطیٰ کی سلامتی، توانائی کی ترسیل اور بین الاقوامی جہاز رانی پر وسیع اثرات ڈالے ہیں۔ اس لیے کسی نئے حملے یا جوابی کارروائی کے بارے میں بیانات کو خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ فی الحال دستیاب معلومات میں کسی نئے امریکی یا اسرائیلی حملے کے آغاز کی تصدیق نہیں، اور تازہ پیش رفت بنیادی طور پر ایرانی قیادت کی وارننگ اور جاری سفارتی کوششوں تک محدود ہے۔

