نیویارک: پاکستان نے افغان طالبان حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغانستان کی سرزمین پر سرگرم دہشت گرد گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کریں اور اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کریں۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی تھرڈ کمیٹی میں افغانستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر خصوصی نمائندے کے ساتھ مکالمے کے دوران پاکستانی مشن کے کونسلر محمد جواد اجمل نے کہا کہ دہشت گردی افغانستان اور خطے کو درپیش بنیادی چیلنجوں میں شامل ہے۔
پاکستان کے مستقل مشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پاکستانی نمائندے نے تحریک طالبان پاکستان، بلوچستان لبریشن آرمی، مجید بریگیڈ، داعش خراسان اور ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ سمیت مختلف گروہوں کی افغانستان میں موجودگی اور سرگرمیوں پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے طالبان حکام کی جانب سے ان تنظیموں کی کھلی مذمت نہ کیے جانے کو تشویش ناک قرار دیا اور مبینہ سہولت کاری یا حمایت سے متعلق سوالات اٹھائے۔ یہ پاکستانی حکومت کا مؤقف ہے؛ طالبان حکام کی جانب سے ان الزامات کی تردید یا مختلف مؤقف ماضی میں سامنے آتا رہا ہے، اس لیے ان دعوؤں کو فریق کے بیان کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
پاکستانی نمائندے نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ تین برس میں افغانستان کی سرزمین سے منسلک دہشت گرد حملوں میں 4,700 سے زیادہ پاکستانی شہری جان سے گئے۔ انہوں نے مارچ میں پاکستان کی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فوجی تنصیبات اور ایسے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا تھا جسے پاکستان کے مطابق ٹی ٹی پی پاکستانی شہریوں کے خلاف استعمال کرتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلسل حملوں کی صورت میں خاموش نہیں رہ سکتا اور ضرورت پڑنے پر بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنے شہریوں اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے حقِ دفاع استعمال کرے گا۔
بیان میں افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کی بنیادی آزادیوں پر پابندیوں کا معاملہ بھی اٹھایا گیا۔ محمد جواد اجمل نے طالبان حکام سے یہ پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ امتیازی اقدامات اسلامی تعلیمات اور روایات سے مطابقت نہیں رکھتے۔ انہوں نے جولائی میں اسلام آباد میں منعقد ہونے والی او آئی سی کی خواتین سے متعلق وزارتی کانفرنس اور اس کے اعلامیے کا بھی حوالہ دیا۔
پاکستان نے افغانستان میں استحکام، امن اور خوشحالی کی حمایت جاری رکھنے کا اعادہ کیا، تاہم ساتھ ہی کہا کہ کابل کو اپنی سرزمین پڑوسی ممالک کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کے وعدوں پر عمل کرنا ہوگا۔ اسلام آباد اور کابل کے تعلقات حالیہ برسوں میں سرحد پار دہشت گردی کے الزامات اور سکیورٹی واقعات کے باعث کشیدہ رہے ہیں۔
پاکستانی نمائندے نے افغان مہاجرین کی میزبانی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ پاکستان کئی دہائیوں سے لاکھوں افغان شہریوں کو پناہ دیتا رہا ہے۔ ان کے مطابق عالمی برادری کو مہاجرین سے متعلق ذمہ داری میں زیادہ حصہ لینا چاہیے۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان افغانستان کے ساتھ سکیورٹی معاملات پر سخت مؤقف اختیار کیے ہوئے ہے اور دونوں جانب سرحدی کشیدگی بھی رپورٹ ہوئی ہے۔
