اسلام آباد: پاکستان اور سنگاپور نے دوطرفہ اقتصادی اور تکنیکی روابط کو وسعت دینے کے لیے تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، انفراسٹرکچر کی ترقی اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز سمیت متعدد شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ وزارت خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور سنگاپور کے وزیر خارجہ ڈاکٹر ویوین بالاکرشنن کے درمیان یہ بات چیت سنگاپوری وزیر کے سرکاری دورۂ پاکستان کے دوران ہوئی۔
وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے پاکستان اور سنگاپور کے باہمی تعلقات کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا اور علاقائی و بین الاقوامی پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ بات چیت میں اقتصادی تعاون کو زیادہ عملی شکل دینے، کاروباری رابطے بڑھانے اور ایسے شعبوں کی نشاندہی پر توجہ دی گئی جہاں دونوں ممالک اپنی مہارت اور منڈیوں سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
ملاقات میں جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم آسیان کے ساتھ پاکستان کے روابط کو مزید گہرا کرنے کا موضوع بھی زیر بحث آیا۔ اس تناظر میں سنگاپور کی 2027 میں متوقع آسیان چیئرمین شپ کا حوالہ دیا گیا۔ پاکستان طویل عرصے سے آسیان کے ساتھ تجارتی اور سفارتی روابط بڑھانے کا خواہاں ہے، اس لیے سنگاپور کے ساتھ قریبی رابطہ اس وسیع علاقائی حکمت عملی میں اہمیت رکھتا ہے۔
دورے کے دوران پاکستان کی نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور سنگاپور سول ڈیفنس فورس کے درمیان آفات سے نمٹنے کے شعبے میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت کا بھی تبادلہ کیا گیا۔ وزارت خارجہ کے مطابق اس مفاہمت کا مقصد آفات کی پیشگی تیاری، ہنگامی ردعمل اور بحالی و لچک کی صلاحیت میں تعاون مضبوط کرنا ہے۔ موسمیاتی اور قدرتی آفات کے بڑھتے خطرات کے باعث یہ شعبہ پاکستان کے لیے خاص عملی اہمیت رکھتا ہے۔
سنگاپور کے وزیر خارجہ نے اپنے دورے میں وزیراعظم شہباز شریف سے بھی ملاقات کی، جہاں دونوں فریقوں نے دوطرفہ اور کثیرالجہتی فورمز پر رابطہ جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے جنرل ہیڈکوارٹرز میں چیف آف ڈیفنس فورسز و چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بھی ملاقات کی، جس میں علاقائی سلامتی اور دوطرفہ تعاون کے امکانات پر گفتگو ہوئی۔
اسحاق ڈار اور ڈاکٹر بالاکرشنن نے پاکستان اور سنگاپور کے درمیان براہ راست پروازوں کی ممکنہ بحالی پر بھی بات کی۔ حکام کے مطابق براہ راست فضائی رابطہ کاروباری سفر اور عوامی روابط میں سہولت دے سکتا ہے۔ یہ دورہ دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات کے قیام کی ساٹھویں سالگرہ کے موقع پر ہوا، جسے وزارت خارجہ نے دیرینہ شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے مشترکہ عزم کا اظہار قرار دیا۔

