راولپنڈی: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور ممکنہ ثالثی کے حوالے سے محتاط طور پر پُرامید ہے۔ رائٹرز کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے علاقائی سلامتی، پاکستان کے سفارتی کردار اور مشرق وسطیٰ کی بدلتی صورتحال پر بات کی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان کے ایران کے ساتھ جغرافیائی، تاریخی اور عوامی روابط ہیں جبکہ امریکا کے ساتھ بھی اہم تعلقات موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ایسے رابطے میں معاون کردار ادا کر سکتا ہے جو کشیدگی کم کرنے کی طرف لے جائے، تاہم ثالثی یا مذاکرات کا حقیقی آغاز دونوں بنیادی فریقوں کی سیاسی آمادگی کے بغیر ممکن نہیں۔ اس بیان کو کسی حتمی مذاکراتی معاہدے یا طے شدہ سفارتی فارمولے کے اعلان کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔

ایران اور امریکا کے تعلقات جوہری پروگرام، پابندیوں اور علاقائی سلامتی کے معاملات پر طویل عرصے سے تناؤ کا شکار رہے ہیں۔ پاکستان نے ماضی میں بھی خطے میں تصادم کے بجائے سفارت کاری اور مذاکرات کی حمایت کی ہے۔ موجودہ بیان اسی پالیسی تسلسل کی عکاسی کرتا ہے اور اس میں اسلام آباد کی جانب سے سہولت کاری کے امکان کو کھلا رکھا گیا ہے۔

انٹرویو میں پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی تعاون سے متعلق سوالات بھی زیر بحث آئے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے پاکستان کے علاقائی شراکت داروں کے ساتھ دفاعی روابط کو ریاستی پالیسی اور باہمی مفادات کے تناظر میں بیان کیا۔ انہوں نے اس تاثر سے گریز کیا کہ کسی ایک دفاعی تعلق کا مقصد کسی تیسرے ملک کے خلاف اتحاد قائم کرنا ہے۔

پاکستان کے لیے ایران کے ساتھ تقریباً 900 کلومیٹر طویل سرحد، خلیجی خطے سے توانائی و تجارت کے روابط اور امریکا کے ساتھ سفارتی و اقتصادی تعلقات اس معاملے کو براہ راست قومی مفاد سے جوڑتے ہیں۔ اسی وجہ سے کسی نئی ایران-امریکا کشیدگی کے اثرات پاکستان کی سرحدی سلامتی، تجارت اور علاقائی استحکام تک پہنچ سکتے ہیں۔ فی الحال ڈی جی آئی ایس پی آر کا بیان سفارتی امکان اور پاکستان کی آمادگی کی نشاندہی کرتا ہے؛ باقاعدہ مذاکرات یا کسی طے شدہ ثالثی عمل کی تصدیق سامنے نہیں آئی۔