ویٹیکن سٹی: ویٹیکن نے تصدیق کی ہے کہ پوپ لیو چودہ نے امریکا کے وسط مدتی انتخابات میں اپنا ووٹ ڈاک کے ذریعے جمع کرا دیا ہے۔ اے ایف پی کی ڈان میں شائع رپورٹ کے مطابق شکاگو میں پیدا ہونے والے پوپ نے بطور امریکی شہری میل اِن بیلٹ استعمال کیا۔ دستیاب تاریخی ریکارڈ کے مطابق کسی حاضر سروس پوپ کے سیاسی انتخاب میں ووٹ ڈالنے کا یہ پہلا معلوم واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ویٹیکن کے بیان میں کہا گیا کہ پوپ شہریوں کے جمہوری عمل میں شرکت کے حق اور ذمہ داری پر یقین رکھتے ہیں۔ ہولی سی پریس آفس کے مطابق لیو چودہ نے امریکی شہری کی حیثیت سے جب بھی اہل رہے اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کیا اور اسی دیرینہ شہری طرزِ عمل کے مطابق اس مرتبہ بھی شکاگو میں اپنا ڈاک کے ذریعے ووٹ جمع کرایا۔
امریکا کے وسط مدتی انتخابات 3 نومبر کو ہونے ہیں اور ان کے نتائج کانگریس میں طاقت کے توازن کے ساتھ امریکی داخلی اور خارجہ پالیسی پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔ ویٹیکن نے یہ نہیں بتایا کہ پوپ نے کس امیدوار یا جماعت کو ووٹ دیا، اور ووٹ کی سیاسی ترجیح سے متعلق کوئی مصدقہ معلومات موجود نہیں۔ اس لیے اس اقدام کو کسی مخصوص جماعت کی حمایت کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔
پوپ لیو چودہ، جن کا پیدائشی نام رابرٹ فرانسس پریوسٹ ہے، امریکا میں پیدا ہوئے اور طویل عرصہ پیرو میں مذہبی خدمات انجام دیتے رہے۔ وہ امریکی اور پیرو دونوں شہریت رکھتے ہیں۔ ویٹیکن کے مطابق انہوں نے پیرو میں رہائش کے دوران بھی جب قانونی طور پر اہل تھے اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کیا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب پوپ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان امیگریشن پالیسی اور ایران کی جنگ سمیت بعض معاملات پر عوامی اختلافات رپورٹ ہو چکے ہیں۔ تاہم ووٹ ڈالنے کی تصدیق بذات خود ان اختلافات کے بارے میں کسی نئے سیاسی مؤقف کا اعلان نہیں ہے۔ ویٹیکن نے اسے پوپ کے ذاتی شہری حق اور جمہوری عمل میں شرکت کے تسلسل کے طور پر پیش کیا ہے۔
پوپ کی حیثیت بیک وقت مذہبی اور ریاستی نوعیت رکھتی ہے: وہ دنیا کے تقریباً 1.4 ارب کیتھولک مسیحیوں کے روحانی سربراہ اور ویٹیکن سٹی کے سربراہِ مملکت ہیں۔ اسی وجہ سے ایک امریکی انتخاب میں ان کی شہری شرکت غیر معمولی بین الاقوامی توجہ کا باعث بنی ہے، اگرچہ بیلٹ کی رازداری کے باعث ان کے انتخابی فیصلے کی تفصیل عوامی نہیں ہے۔

