راولپنڈی: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی پیش رفت کے حوالے سے ’محتاط طور پر پُرامید‘ ہے اور چاہتا ہے کہ بات چیت کے ذریعے علاقائی کشیدگی میں کمی آئے۔ انہوں نے رائٹرز کو دیے گئے انٹرویو میں پاکستان کے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد سفارت کاری اور مذاکرات کو آگے بڑھانے کی کوششوں کو اہم سمجھتا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق خطے میں جاری تنازع اور اس کے وسیع تر اثرات پاکستان کے لیے براہ راست اہمیت رکھتے ہیں، کیونکہ خلیجی خطے کی سلامتی، توانائی کی ترسیل اور تجارتی راستوں میں خلل جنوبی ایشیا سمیت متعدد ممالک کو متاثر کر سکتا ہے۔ انہوں نے اس تناظر میں ایسے عناصر سے خبردار کیا جو سفارتی عمل کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، جبکہ اس بات پر زور دیا کہ پائیدار حل بات چیت کے ذریعے ہی تلاش کیا جانا چاہیے۔
انٹرویو میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دفاعی تعلقات اور مکہ دفاعی معاہدے کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ اس انتظام میں نئے ارکان کی شمولیت پر کوئی عمومی پابندی نہیں، تاہم کسی بھی ممکنہ توسیع یا نئے رکن کے بارے میں فیصلہ متعلقہ ریاستوں اور طے شدہ سفارتی و دفاعی طریقۂ کار کے مطابق ہوگا۔ انہوں نے پاکستان کی سعودی عرب کے دفاع سے متعلق وابستگی کا اعادہ کیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے یمن کے تنازع کے بارے میں بھی واضح کیا کہ پاکستان اس جنگ میں شریک نہیں۔ ان کے بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب مشرق وسطیٰ میں عسکری کشیدگی نے توانائی کی عالمی منڈی، بحری نقل و حرکت اور علاقائی سلامتی کے خدشات میں اضافہ کیا ہے۔ پاکستان ماضی میں بھی ایران اور خلیجی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات میں توازن برقرار رکھنے اور تنازعات کے سیاسی حل کی حمایت کا مؤقف پیش کرتا رہا ہے۔
رائٹرز کے مطابق پاکستانی فوجی ترجمان نے موجودہ سفارتی کوششوں کے نتائج کے بارے میں حتمی پیش گوئی کرنے کے بجائے محتاط امید کا اظہار کیا۔ اس لیے ان کے بیان کو کسی حتمی سمجھوتے یا جنگ بندی کی تصدیق نہیں سمجھا جا سکتا۔ اصل پیش رفت کا انحصار ایران، امریکا اور دیگر متعلقہ فریقوں کے آئندہ اقدامات، مذاکرات کے تسلسل اور زمینی صورت حال میں تبدیلی پر ہوگا۔

