کیف: جنوبی یوکرین کے روسی زیرِ قبضہ قصبے اولیشکی سے شہریوں کو ایک مقامی جنگ بندی کے دوران بسوں کے ذریعے نکالا گیا، جسے تقریباً چار سال آٹھ ماہ سے جاری جنگ میں دونوں متحارب جانب کی شمولیت سے ہونے والی ایک غیر معمولی مشترکہ امدادی کارروائی قرار دیا جا رہا ہے۔
رائٹرز کے مطابق امریکی خاتون اول میلانیہ ٹرمپ کی ثالثی سے طے پانے والی محدود مقامی جنگ بندی کے تحت امدادی قافلہ اولیشکی پہنچا، جہاں خوراک اور ادویات تقسیم کی گئیں۔ روسی انسانی حقوق کمشنر یانا لانتراتوا نے بتایا کہ قصبہ چھوڑنے کے خواہش مند افراد، خواہ ان کی منزل روس ہو یا یوکرین، کو ابتدائی طور پر 25 بسوں اور نو ایمبولینسوں میں روس کے زیرِ الحاق کریمیا منتقل کیا گیا۔
اس کے بعد انخلا کرنے والوں کو ان کی منتخب منزل کے مطابق الگ قافلوں میں تقسیم کیا جانا تھا۔ یوکرین کے سینئر رکن پارلیمان ڈیوڈ اراخامیا کے مطابق یوکرین واپس جانے والوں کو کریمیا سے جنوبی روس کے شہر اناپا، پھر فضائی راستے سے بیلاروس اور وہاں سے بس کے ذریعے یوکرین پہنچانے کا منصوبہ تھا۔ یہ ایک ہزار میل سے زیادہ طویل راستہ بنتا ہے اور جنگی حالات میں براہ راست آمدورفت کی پیچیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ترجمان نے اس محدود تعاون کو وسیع امن عمل پر منطبق کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ اس مثال سے مجموعی مذاکرات کے بارے میں نتیجہ اخذ کرنا مشکل ہے۔ اس دوران دوسرے محاذوں پر حملے جاری رہے۔ یوکرینی حکام کے مطابق روسی حملوں نے متعدد علاقوں، کیف اور دنیپرو کو نشانہ بنایا، جبکہ ایک روز قبل دنیپرو میں ریلوے پلیٹ فارم پر ڈرون حملے میں کم از کم 15 افراد کی ہلاکت رپورٹ ہوئی تھی۔
روس نے دوسری جانب الزام لگایا کہ یوکرین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی درخواست کے باوجود روسی آئل ریفائنریوں پر حملے دوبارہ شروع کیے۔ اس مخصوص الزام پر یوکرین کی جانب سے فوری ردعمل رپورٹ نہیں ہوا۔ جنگ کے دونوں فریق ایک دوسرے پر شہری و توانائی بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے الزامات لگاتے رہے ہیں۔
اولیشکی 2023 میں کاخوفکا ڈیم کی تباہی کے بعد شدید سیلاب سے بھی متاثر ہوا تھا اور جنگ کے باعث قصبے کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا۔ تازہ انخلا انسانی بنیادوں پر محدود تعاون کی ایک اہم مثال ہے، لیکن یہ کسی وسیع جنگ بندی یا امن معاہدے کی علامت نہیں۔ دستیاب معلومات کے مطابق یہ کارروائی مخصوص علاقے اور شہری امداد تک محدود رہی، جبکہ روس اور یوکرین کے درمیان مرکزی جنگی محاذ فعال ہیں۔
