واشنگٹن: پاکستان نے اقوام متحدہ کے فورم پر الزام عائد کیا ہے کہ افغانستان میں طالبان حکام دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین پر سرگرم رہنے دے رہے ہیں، جبکہ اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے نے رکن ممالک سے کہا ہے کہ انسانی حقوق کی صورتحال میں قابل تصدیق بہتری کے بغیر کابل حکام کے ساتھ تعلقات معمول پر نہ لائے جائیں۔ یہ دونوں مؤقف افغانستان کی سکیورٹی اور انسانی حقوق کی صورتحال پر الگ مگر باہم متعلقہ خدشات کی عکاسی کرتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں افغانستان سے متعلق مکالمے کے دوران پاکستان کے نمائندے محمد جواد اجمل نے کہا کہ گزشتہ تین برسوں میں افغانستان سے شروع ہونے والے دہشت گرد حملوں میں 4,700 سے زیادہ پاکستانی ہلاک ہوئے۔ انہوں نے طالبان پر دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ قریبی روابط برقرار رکھنے کا الزام لگایا اور دعویٰ کیا کہ یہ گروہ افغان سرزمین پر آزادی سے کام کرتے ہیں۔ یہ دعوے پاکستانی نمائندے کے الزامات ہیں؛ رپورٹ میں طالبان کی جانب سے ان مخصوص الزامات کا تازہ جواب شامل نہیں تھا۔

جواد اجمل نے افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کی صورتحال پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ بنیادی آزادیوں پر پابندیاں بین الاقوامی ذمہ داریوں سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ انہوں نے اسلام آباد میں ہونے والی اسلامی تعاون تنظیم کی وزارتی کانفرنس اور اس کے اعلامیے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خواتین اور لڑکیوں پر عائد پابندیوں کے بارے میں مسلم ممالک بھی تحفظات ظاہر کر چکے ہیں۔

دوسری جانب افغانستان میں انسانی حقوق کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی رپورٹر رچرڈ بینیٹ نے جنرل اسمبلی کو بتایا کہ طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے پانچ برس بعد بھی منظم انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو واپس لینے کے واضح آثار نہیں ملے۔ ان کے مطابق حالیہ احکامات نے خواتین کے حقوق مزید محدود کیے اور ایسے حالات پیدا کیے جن میں بدسلوکی یا تشدد کا سامنا کرنے والی خواتین کے لیے نکلنے کے راستے مزید مشکل ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کم عمری کی شادیوں، آزادی اظہار پر پابندیوں اور مختلف اقلیتی و کمزور گروہوں کے خلاف امتیاز کے مسائل بھی اٹھائے۔

بینیٹ کی رپورٹ میں من مانی حراست، تشدد، جنسی تشدد، جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت ہلاکتوں کے واقعات کا بھی ذکر کیا گیا۔ یہ نکات اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کی رپورٹ کردہ معلومات اور نتائج ہیں اور ان کی نوعیت کو حتمی عدالتی فیصلوں سے الگ سمجھنا ضروری ہے۔

پاکستان کا مؤقف خاص طور پر سرحد پار دہشت گردی کے خطرے پر مرکوز رہا، جبکہ اقوام متحدہ کے ماہر نے انسانی حقوق کو بین الاقوامی روابط اور ممکنہ سفارتی معمول پر آنے کے عمل سے جوڑا۔ افغانستان کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں سرحدی سلامتی، شدت پسند گروہوں کی موجودگی اور مہاجرین سمیت متعدد پیچیدہ معاملات شامل ہیں۔ تازہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام آباد اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں کی جانب سے کابل پر مختلف محاذوں پر دباؤ برقرار ہے۔