اٹلانٹا: دنیا کی بڑی معیشتوں کے گروپ جی 20 کے وزرائے خارجہ کا دو روزہ اجلاس متعدد اہم سلامتی اور اقتصادی معاملات پر مشترکہ اتفاق رائے قائم کیے بغیر اختتام کی جانب بڑھا۔ اجلاس میں روس کی یوکرین کے خلاف جنگ، امریکا اور اسرائیل کے ایران کے ساتھ جاری تنازع، امریکی تجارتی ٹیرف، بحیرہ جنوبی چین کی صورتحال اور جنوبی افریقہ کی عدم شرکت جیسے معاملات پر رکن ممالک کے درمیان نمایاں اختلافات سامنے آئے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اختلافات کی وجہ سے اجلاس کے اختتام پر روایتی مشترکہ اعلامیہ جاری ہونے کے بجائے چیئرمین کا بیان متوقع ہے۔ اس نوعیت کا نتیجہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ جی 20 کے اندر عالمی سلامتی اور تجارت سے متعلق کئی بنیادی معاملات پر رکن ممالک کے مؤقف ایک دوسرے سے فاصلے پر ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مذاکرات کو مجموعی طور پر نتیجہ خیز قرار دیا اور کہا کہ آخری نشست میں محفوظ سپلائی چینز، اہم سمندری راستوں میں آزاد جہاز رانی اور اہم معدنیات جیسے موضوعات زیر بحث آئیں گے۔ یہ موضوعات حالیہ برسوں میں عالمی اقتصادی اور قومی سلامتی پالیسی کا مرکزی حصہ بن چکے ہیں کیونکہ بڑی طاقتیں توانائی، ٹیکنالوجی اور صنعتی پیداوار کے لیے ضروری خام مال کی رسد محفوظ بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
اجلاس میں روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کی موجودگی بھی سفارتی تناؤ کا باعث بنی۔ رپورٹ کے مطابق یورپی سفارت کاروں کے اعتراض کے بعد روایتی گروپ تصویر منسوخ کر دی گئی۔ یوکرین کے معاملے پر روس کے مؤقف میں تبدیلی نہ آنے سے مغربی ممالک کے ساتھ اختلافات مزید نمایاں رہے۔
ایران سے متعلق کشیدگی بھی اجلاس کے پس منظر میں اہم رہی۔ خطے میں ممکنہ نئی امریکی کارروائی اور اس کے جواب میں ایرانی ردعمل کے خدشات نے سفارتی ماحول کو متاثر کیا۔ جی 20 میں شامل مختلف ممالک مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے خواہاں ہیں، لیکن اس معاملے پر بھی مشترکہ سیاسی زبان طے کرنا آسان نہیں رہا۔
اجلاس کے شرکا نے اختلافات کے باوجود رابطے جاری رکھنے اور اگلے ماہ فلوریڈا میں ہونے والے جی 20 سربراہ اجلاس کی کامیابی کے لیے کام کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ وزرائے خارجہ اجلاس میں مشترکہ اعلامیہ نہ بن پانا آئندہ سربراہ اجلاس کے لیے سفارتی چیلنج کی نشاندہی کرتا ہے، جہاں تجارت، جنگوں، سپلائی چینز اور عالمی اقتصادی تعاون پر مزید اعلیٰ سطحی مذاکرات متوقع ہیں۔

