مکمل کوریج

نیشنل بینک کی خاتون ملازمہ کے خلاف کام کی جگہ ہراسانی کیس میں وفاقی آئینی عدالت کا فیصلہ

وفاقی آئینی عدالت نے نیشنل بینک آف پاکستان کی ایک خاتون ملازمہ سے متعلق کام کی جگہ ہراسانی کے مقدمے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کا سابق فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے ہائی کورٹ کے آئینی نگرانی کے دائرۂ اختیار اور Protection against Harassment of Women at the Workplace Act, 2010 کے تحت ہراسانی کی تعریف پر تفصیلی نکات واضح کیے۔ عدالت نے کہا کہ ہائی کورٹ صرف قانون یا عدالتی اصولوں کی خلاف ورزی، دائرۂ اختیار سے تجاوز، غلط شواہد کے مطالعے یا قانون کے غلط اطلاق کی صورت میں مداخلت کر سکتی ہے اور اس قانون کے تحت قابلِ کارروائی ہراسانی کا تعلق لازماً جنسی نوعیت کے رویے یا عمل سے ہونا چاہیے؛ اس فیصلے میں عمومی تادیبی کارروائی یا دوسرے قوانین کے تحت ممکنہ ذمہ داری کا حتمی اعلان شامل نہیں۔

1 خبریںآخری خبر:

خبروں کا تسلسل · تازہ ترین پہلے