اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے نیشنل بینک آف پاکستان کی ایک خاتون ملازم سے متعلق کام کی جگہ پر ہراسانی کے مقدمے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کا سابق فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ہے۔ ڈان کے مطابق چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس سید ارشد حسین شاہ پر مشتمل تین رکنی بینچ نے عثمان شاہد اور عقیل عباس کی مشترکہ اپیل پر فیصلہ سنایا۔ 18 صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس علی باقر نجفی نے تحریر کیا۔

مقدمے کا پس منظر کئی سال پر محیط ہے۔ نیشنل بینک کی ملازم نادیا سرور نے 2012 اور 2013 میں ادارے کے اندر شکایات کیں اور بعد میں وفاقی محتسب سے رجوع کیا، جہاں شکایت منظور کرتے ہوئے متعلقہ افراد کے خلاف لازمی ریٹائرمنٹ کی بڑی سزا دی گئی تھی۔ بعدازاں صدرِ پاکستان کے سامنے نمائندگی پر لازمی ریٹائرمنٹ کا حکم ختم کیا گیا اور بینک کو تنبیہ یا سرزنش کی نوعیت کی سزا دینے کی ہدایت کی گئی۔ خاتون ملازم نے اس فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا، جس نے 31 دسمبر 2024 کے فیصلے کے ذریعے وفاقی محتسب کا اصل حکم بحال کر دیا تھا۔

وفاقی آئینی عدالت نے تازہ فیصلے میں ہائی کورٹ کے آئینی دائرۂ اختیار کی حدود پر زور دیا۔ عدالت کے مطابق نگرانی کے اختیار کے تحت ہائی کورٹ یہ دیکھ سکتی ہے کہ ماتحت فورم نے قانون اور بنیادی عدالتی اصولوں کی پابندی کی یا نہیں، تاہم وہ عام طور پر شواہد کا ازسرنو جائزہ لے کر حقائق سے متعلق اپنی الگ رائے متبادل کے طور پر نافذ نہیں کر سکتی۔ عدالت نے ان حالات کی نشان دہی کی جن میں عدالتی مداخلت ممکن ہو سکتی ہے، مثلاً شواہد کے غلط یا نامکمل مطالعے، قانون کے غلط اطلاق، دائرۂ اختیار سے تجاوز یا اختیارات کے من مانے استعمال کے معاملات۔

فیصلے میں Protection against Harassment of Women at the Workplace Act, 2010 کے تحت ہراسانی کی قانونی تعریف بھی زیر بحث آئی۔ عدالت نے قرار دیا کہ اس مخصوص قانون کے تحت قابلِ کارروائی ہراسانی کے لیے مبینہ رویے یا عمل کا جنسی نوعیت سے تعلق ہونا ضروری ہے، اور قانون کی اس تعریف کو ہر قسم کے نامناسب یا تادیبی رویے تک وسیع نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے اس نکتے پر بعض سابق عدالتی تشریحات سے اختلاف بھی کیا جن میں تعریف کا دائرہ نسبتاً وسیع کیا گیا تھا۔

یہ فیصلہ کسی عمومی تادیبی کارروائی یا دوسرے قوانین کے تحت ممکنہ ذمہ داری کے بارے میں حتمی اعلان نہیں بلکہ اس مخصوص قانون، وفاقی محتسب کے اختیار اور ہائی کورٹ کے آئینی نگرانی کے دائرے سے متعلق عدالتی تشریح ہے۔ مقدمے میں سامنے آنے والے ابتدائی الزامات کو بھی الزامات ہی کے طور پر بیان کیا جاتا ہے؛ تازہ فیصلے کا مرکزی قانونی سوال یہ تھا کہ متعلقہ قانون کے تحت ان کارروائیوں اور سزاؤں کی قانونی بنیاد اور عدالتی جائزے کی حد کیا بنتی ہے۔