مسلسل اپ ڈیٹس

این ایچ اے کے جاری منصوبوں کا تھرڈ پارٹی آڈٹ اور شاہراہوں کے لیے پی پی پی حکمتِ عملی (اکتوبر 2026)

وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں این ایچ اے کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے تمام جاری منصوبوں کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کرانے کی ہدایت کی اور قومی شاہراہوں، موٹرویز اور ایکسپریس ویز کی تعمیر کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) پر مبنی حکمتِ عملی تیار کرنے کا حکم دیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ این ایچ اے کی آمدنی گزشتہ مالی سال 109 ارب روپے سے بڑھ کر 130 ارب روپے ہوئی اور رواں مالی سال اسے 160 ارب روپے تک پہنچانے کی توقع ظاہر کی گئی؛ یہ 160 ارب کا عدد سرکاری بریفنگ میں پیش کیا گیا تخمینہ ہے، حتمی وصولی نہیں۔ بریفنگ میں این ایچ اے کی زیرِ مالی معاونت متعدد منصوبوں کا ذکر کیا گیا جن میں ایم-12 (سیالکوٹ-کھاریاں)، ایم-13 (کھاریاں-راولپنڈی)، پشاور ناردرن بائی پاس، جگلوٹ-اسکردو روڈ کی بحالی، ایم-4 کی اپ گریڈیشن، این-5 کے سیکشن، لیہ-تونسہ پل رابطہ سڑکیں اور پاکستان ایکسپریس وے (این-25) شامل ہیں۔ بتایا گیا کہ 16 منصوبے تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں اور ایم-12 و ایم-13 پی پی پی ماڈل کے تحت بنائے جا رہے ہیں۔ گورو نانک ایکسپریس وے اور مانسہرہ-چلاس کے لیے مجوزہ راستے کی تجاویز بھی پیش کی گئیں۔ تھرڈ پارٹی آڈٹ کے عملی دائرہ اور طریقہ کار متعلقہ اداروں کی آئندہ کارروائی سے واضح ہوں گے۔

1 خبریںآخری خبر:

خبروں کا تسلسل · تازہ ترین پہلے

این ایچ اے کے جاری منصوبوں کا تھرڈ پارٹی آڈٹ اور شاہراہوں کے لیے پی پی پی حکمتِ عملی (اکتوبر 2026) | اردو ہیڈ لائنز