وزیراعظم شہباز شریف نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کے تمام جاری منصوبوں کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کرانے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام آباد میں این ایچ اے سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے قومی شاہراہوں، موٹرویز اور ایکسپریس ویز کی تعمیر کیلئے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پر مبنی حکمت عملی تیار کرنے کا بھی حکم دیا۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق وزیراعظم نے ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر کو معاشی ترقی، دور دراز علاقوں کے باہمی رابطے، سفری سہولتوں اور کاروبار و روزگار کے مواقع کیلئے اہم قرار دیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال این ایچ اے کی آمدن 109 ارب روپے سے بڑھ کر 130 ارب روپے ہوئی، جبکہ رواں مالی سال اسے 160 ارب روپے تک پہنچانے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔ یہ 160 ارب روپے کا عدد سرکاری بریفنگ میں پیش کیا گیا تخمینہ ہے، حتمی وصولی نہیں۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ این ایچ اے اپنی آمدن سے متعدد منصوبوں کی مالی معاونت کر رہا ہے، جن میں سیالکوٹ-کھاریاں موٹروے ایم 12، کھاریاں-راولپنڈی موٹروے ایم 13، پشاور ناردرن بائی پاس، جگلوٹ-اسکردو روڈ کی بحالی، پنڈی بھٹیاں-فیصل آباد موٹروے ایم 4 کی اپ گریڈیشن، ملتان-لودھراں این 5 سیکشن اور لیہ-تونسہ پل کی رابطہ سڑکیں شامل ہیں۔ پاکستان ایکسپریس وے این 25 پر بھی کام جاری ہونے کی بریفنگ دی گئی۔

سرکاری تفصیل کے مطابق 16 منصوبے تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں۔ ان میں اسلام آباد کے ٹی چوک سے بانتھ تک جی ٹی روڈ کی اپ گریڈیشن، چنگی نمبر 26 انٹرچینج کی ری ماڈلنگ، مارگلہ ایونیو کی ایم ون تک توسیع، کوئٹہ ویسٹرن بائی پاس اور سندھ و بلوچستان سمیت مختلف علاقوں میں شاہراہوں کے منصوبے شامل ہیں۔ مزید کئی منصوبوں کے سنگ بنیاد کی تیاری کا بھی بتایا گیا، جن میں کھاریاں-راولپنڈی ایم 13 اور سکھر-حیدرآباد ایم 6 شامل ہیں۔

اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ ایم 12 اور ایم 13 پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت تعمیر کیے جا رہے ہیں۔ گورو نانک ایکسپریس وے کی تجویز، جو کرتارپور اور ننکانہ صاحب سمیت مقدس سکھ مقامات کو جوڑنے کیلئے زیر غور ہے، اور ناران کے راستے مانسہرہ-چلاس ایکسپریس وے کی تجویز بھی بریفنگ کا حصہ تھی۔ تھرڈ پارٹی آڈٹ کی ہدایت کا عملی دائرہ اور طریقہ کار متعلقہ اداروں کی آئندہ کارروائی سے واضح ہوگا۔